خطبات محمود (جلد 23) — Page 486
* 1942 486 خطبات محمود ذرے پوشیدہ تھے کیونکہ ریت کے بعض اور ذروں نے ان کو نگاہوں سے مخفی کر دیا تھا مگر خدا تعالیٰ کے سامنے وہ سرخ سرخ ذرے موجود تھے جن کو بلال کے خون نے سرخ کر دیا تھا۔تو جو لوگ قومی اور ملتی مفاد کے لئے قربانی کرتے ہیں، خدا تعالیٰ ان کو کبھی ذلیل نہیں کرتا۔جو شخص خدا کے لئے مرتا ہے وہ ہمیشہ کی زندگی پاتا ہے اور جو شخص خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان بچانے کی کوشش کرتا ہے خدا تعالیٰ کے فرشتے اس سے کہتے ہیں مر اور ہمیشہ کے لئے مر مگر جہاں میں یہ کہتا ہوں وہاں میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ایسے موقع پر یہ محبتیں کبھی کبھی شرک کا رنگ بھی اختیار کر لیا کرتی ہیں جیسے میں نے بتایا ہے کہ کانگرسی اپنے جھنڈے کو سلام کرتے ہیں اور بعض قو میں جھنڈے کے سامنے اسی طرح جھک جاتی ہیں جیسے رکوع کیا جاتا ہے۔یہ سب ناجائز امور ہیں۔پس جہاں تم شعائر اللہ کی حفاظت کرو اور قومی شعائر کا ادب اور احترام اپنے دل میں پیدا کرنے کی کوشش کرو، وہاں تم اس بات کو بھی یاد رکھو کہ ان چیزوں کو کبھی ایسا مقام مت دو کہ یہ زندہ خدا کی جگہ لے لیں۔ہمارا خدا واحد خدا ہے اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک کرنا جائز نہیں۔پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ جن چیزوں کو ہم خادم سمجھتے ہیں ان کو آقا کی جگہ دے دیں۔اس سے زیادہ بیوقوفی اور حماقت کی بات اور کوئی نہیں ہو سکتی۔پس جہاں میں تمہیں شعائر اللہ اور قومی شعائر کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے کی ہدایت کرتا ہوں اور تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ جب خدا اور اس کے دین کے لئے تمہیں بلایا جائے اس وقت تم اپنی جانوں کی اتنی قیمت بھی نہ سمجھو جتنی ایک مری ہوئی لکھی ہوتی ہے۔وہاں میں تمہیں یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ کسی چیز کو خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں مت کھڑا کرو۔ہمارا خدا ایک خدا ہے، اس کی قدرتوں میں کوئی شریک نہیں، اس کی حکومت میں کوئی شریک نہیں، اس کی عبادت میں کوئی شریک نہیں۔جو شخص کسی کو خدا تعالیٰ کا شریک قرار دیتا ہے ، چاہے شریک قرار دیا جانے والا خدا تعالیٰ کا نبی اور رسول ہی کیوں نہ ہو ، وہ راندہ در گاہ ہو جاتا ہے مگر جو تمام چیزوں کو اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے۔خدا کو خدا کی جگہ دیتا ہے ، رسول کو رسول کی جگہ دیتا ہے،شعائر کو شعائر کی جگہ دیتا ہے وہی خدا تعالیٰ کے حضور عزت پاتا ہے۔اس دنیا میں بھی اور اگلے جہان میں بھی۔“ (الفضل 31اکتوبر 1942ء)