خطبات محمود (جلد 23) — Page 477
* 1942 477 خطبات محمود لئے اور اپنی اولا دوں کے لئے زندگی تلاش کرتے پھرتے ہیں ان کے پیچھے پیچھے ہر وقت موت دوڑتی رہتی ہے۔دنیا میں اللہ تعالیٰ نے یہ عجیب قانون بنایا ہے کہ جن چیزوں کے پیچھے بھا گو وہ آگے آگے بھاگتی ہیں، جو شخص زندگی کے پیچھے بھاگتا ہے ، زندگی اس کے آگے آگے بھاگتی ہے اور موت اسے آکر پکڑ لیتی ہے اور جو شخص موت کے پیچھے بھاگتا ہے ، موت اس کے آگے آگے بھاگتی ہے اور زندگی اسے آکر پکڑ لیتی ہے۔جو قومیں مال اور دولت کے پیچھے بھاگتی ہیں ، دولت ان کے آگے آگے بھاگتی ہے اور جو لوگ اپنے مال اور دولت کو حقیر خیال کرنے لگ جاتے ہیں انہیں یہ دولت اتنی کثرت سے ملتی ہے کہ ان کے پیچھے پیچھے بھاگی پھرتی ہے۔زمیندار ہر سال غلہ اپنے گھر سے نکالتا اور زمین میں جا کر پھینک آتا ہے۔اس کا اپنے گھر سے غلہ نکال کر زمین میں ڈال آنا آخر کیا ہوتا ہے۔اس غلے کو بظاہر ضائع اور تباہ کرنا ہی ہو تا ہے مگر پھر وہی غلہ اس کے پیچھے پیچھے دوڑتا چلا آتا ہے۔اگر وہ اس غلے کو بچا کر رکھے تو کیا تم سمجھ سکتے ہو کہ اسے اتنی کثرت سے غلہ مل سکتا ہے۔اگر وہ کہے کہ میں اپنے دانوں کو کیوں زمین میں ڈالوں، معلوم نہیں اگلے سال غلہ پیدا ہو یا نہ ہو ، یا کیا پتہ وہ سیلاب سے خراب ہو جائے یا پرندے آئیں اور اسے چن چن کر کھا جائیں اور اس طرح غلے کو اپنے گھر میں سنبھال کر رکھ لے تو اس کے گھر میں آئندہ سال کبھی غلہ نہیں آئے گا۔ہاں جو زمیندار کھیتوں میں اپنے غلہ کو پھینک دے گا اور اس کے ضائع ہونے کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا اس کے گھر کثرت سے غلہ آجائے گا۔تو وہی قومیں دنیا میں عزت حاصل کیا کرتی ہیں جو اپنی عزت کو قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتی ہیں اور وہی قومیں دنیا میں زندگی حاصل کیا کرتی ہیں جو اپنی زندگی کو قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتی ہیں۔قربانی کے بغیر دنیا میں عزت اور نیک نامی حاصل کرنے کا اور کوئی طریق نہیں۔کہتے ہیں پرانے زمانہ میں ایک بادشاہ تھا۔وہ ایک دفعہ کہیں جارہا تھا کہ اس نے راستہ میں دیکھا ایک بڑھا ایک درخت لگارہا تھا مگر وہ درخت ایسا تھا جو بیسیوں سال کے بعد پھل دیتا تھا۔بادشاہ اسے دیکھ کر کہنے لگا بڑھے تمہاری عقل ماری گئی ہے تم اسی نوے سال کے ہو گئے ہو اگر تم اس سال نہ مرے تو اگلے سال مر جاؤ گے مگر تم درخت وہ لگا رہے ہو جو ہیں چھپیں سال کے بعد پھل دیتا ہے۔یہ تم کیا کر رہے ہو۔بڑھے نے کہا بادشاہ سلامت آپ