خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 478 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 478

* 1942 478 خطبات محمود بادشاہ ہو کر کیسی غیر معقول بات کر رہے ہیں۔ہمارے باپ دادا نے درخت لگائے اور ہم نے ان کے پھل کھائے۔اب ہم درخت لگائیں گے اور ہماری اولادیں ان کا پھل کھائیں گی۔اگر ہمارے باپ دادا یہ قربانی نہ کرتے اور وہ بھی یہی کہتے کہ ہم کیوں درخت لگائیں ہم انہیں کیوں پانی دیں، ہم کیوں ان کی نگہداشت کریں اور کیوں ان پر محنت کریں تو ہم ان درختوں کے پھل کہاں سے کھاتے۔اسی طرح ہم اگر اس خیال میں رہیں گے کہ ہم نے تو مر جانا ہے۔اب ہم نے درخت لگا کر کیا کرنا ہے تو ہماری اولادیں ان درختوں کا پھل کہاں سے کھائیں گی۔بادشاہ کو اس بڑھے کی یہ بات بہت ہی پسند آئی اور اس کے منہ سے بے اختیار نکلا کہ زہ یعنی تم نے کیا ہی اچھی بات کہی ہے اور بادشاہ نے یہ حکم دیا ہوا تھا کہ جب میں کسی بات سے خوش ہو کر زہ کہوں تو اسے فوراً دو ہزار درہم انعام دے دیئے جایا کریں۔اس کے وزیر کے پاس ہمیشہ ایسی تھیلیاں رہتی تھیں جو نہی بادشاہ نے کہا زہ تو وزیر نے جھٹ دو ہزار درہم کی تھیلی اس بڑھے کے سامنے رکھ دی۔بڑھے کے ہاتھ میں جب روپیہ آیا تو وہ کہنے لگا بادشاہ سلامت ابھی آپ طعنے دے رہے تھے کہ تُو نے اس درخت کا پھل تھوڑا کھانا ہے۔تو تو اس وقت تک مر جائے گا اور تیری اولادیں اس کا پھل کھائیں گی حالانکہ اگر میری اولادیں اس کا پھل کھاتیں تب بھی میں ہی اس کا پھل کھاتا مگر میں نے تو یہ درخت لگاتے لگاتے اس کا پھل کھا لیا۔بادشاہ کے منہ سے پھر نکلازہ یعنی کیا ہی اچھی بات کہی ہے اور وزیر نے جھٹ ایک دوسری تھیلی دو ہزار درہم کی اس کے سامنے رکھ دی۔پھر بڑھا کہنے لگا دیکھئے بادشاہ سلامت آپ کیا اعتراض کرتے تھے۔لوگ تو درخت لگاتے ہیں اور کئی سال کے بعد جب اس کا پھل پیدا ہوتا ہے تو سال میں صرف ایک دفعہ اس کا پھل کھاتے ہیں مگر میں نے تو ایک گھنٹہ میں اس کا دو دفعہ پھل کھا لیا۔بادشاہ کہنے لگا زہ اور وزیر نے جھٹ ایک تیسری تحصیلی دو ہزار درہم کی اس کے سامنے رکھ دی۔پھر بادشاہ اپنے وزیر سے کہنے لگا چلو یہاں سے یہ بڑھا تو ہمیں لوٹ لے گا۔تو حق یہی ہے کہ قربانیاں ہی ہیں جو اچھا پھل لاتی ہیں۔یہ ہے تو ایک لطیفہ مگر حقیقت یہی ہے کہ قربانی کرنے والے وقت سے بہت پہلے اپنی قربانی کا پھل کھا لیتے ہیں۔ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ انہیں ان کی قربانی کا پھل ملنے والا ہے مگر اللہ تعالیٰ جو عرش سے ان کی