خطبات محمود (جلد 23) — Page 459
* 1942 459 خطبات محمود سنا سنا کر ان کو مجبور نہ کر دیا جائے کہ یالڑیں اور یا سوچیں حقیقی تبلیغ نہیں ہو سکتی۔میں نے ایک گزشتہ خطبہ میں کہا تھا کہ وہ زمانہ آنے والا ہے اور قریب ہے کہ جب تبلیغ کے یہ رستے ہمیں چھوڑنے پڑیں گے اور وہ اختیار کرنے پڑیں گے جو دین کی سلطنت کے رستے ہیں جیسے دریا اپنا راستہ بناتا ہے۔اب تک تو ہماری تبلیغ کی مثال پانی کی اس باریک دھار کی ہے جو گلی میں سے گزرتا ہے مگر جب اس کی راہ میں کوئی پتھر آجاتا ہے تو مڑ جاتا ہے۔مگر حقیقی تبلیغ کی مثال اس سیلاب کی ہے جو مکانوں اور ہر اس چیز کو جو اس کے آگے آئے بہالے جاتا ہے۔وہ اپنا راستہ بناتا ہے بدلتا نہیں۔دیکھو جب دریائے سندھ جوش میں آتا ہے ، جب خدا تعالیٰ اسے حکم دیتا ہے کہ تو اپنے رنگ میں تبلیغ کر تو وہ گاؤں کے گاؤں، تحصیلوں کی تحصیلوں اور اضلاع کے اضلاع کو اجاڑتا ہوا چلا جاتا ہے۔اسی طرح انبیاء کی جماعتیں جب حقیقی تبلیغ کے لئے اٹھتی ہیں تو دیوانگی کارنگ رکھتی ہیں۔لوگ کہتے ہیں یہ لوگ پاگل ہیں۔وہ بھی کہتے ہیں کہ ہاں ہم پاگل ہیں مگر اس جنون سے پیاری چیز ہمیں اور کچھ نہیں۔مگر اس دن کے آنے سے پہلے تبلیغ میں تیزی کی ضرورت ہے۔سمندر کو ایک دن میں کوئی شخص پار نہیں کر سکتا جو اسے پار کرنا چاہے پہلے ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس کے قریب کرے۔ایک چھلانگ میں ہی کوئی اس تک نہیں پہنچ سکتا۔پس پہلے اس کے لئے تیاری کی ضرورت ہے۔اس سلسلہ میں میں نے یہ تجویز کی ہے کہ سر دست ضرورت ہے کہ ایک حد تک اس طبقہ میں جو علماء، رؤسا اور امراء یا پیروں اور گدی نشینوں کا طبقہ ہے اس تک با قاعدہ سلسلہ کا لٹریچر بھیجا جائے۔الفضل کا خطبہ نمبر یا انگریزی دان طبقہ تک سن رائز جس میں میرے خطبہ کا انگریزی ترجمہ چھپتا ہے با قاعدہ پہنچایا جائے۔تمام ایسے لوگوں تک ان کو پہنچایا جائے جو عالم ہیں یا امراء، رؤسا یا مشائخ میں سے ہیں اور جن کا دوسروں پر اثر ورسوخ ہے اور اس کثرت سے ان کو بھیجیں کہ وہ تنگ آکر یا تو اس طرف توجہ کریں اور یا مخالفت کا بیڑا اٹھائیں اور اس طرح تبلیغ کے اس طریق کی طرف آئیں جسے آخر ہم نے اختیار کرنا ہے۔لٹریچر اور الفضل کا خطبہ نمبر یا سن رائز بھیجنے کے علاوہ ایسے لوگوں کو خطوط کے ذریعہ بھی تبلیغ کی جائے اور بار بار ایسے ذرائع اختیار کر کے ان کو مجبور کر دیں کہ یا وہ صداقت کی طرف توجہ کریں اور تحقیق کرنے لگیں اور