خطبات محمود (جلد 23) — Page 429
$1942 429 خطبات محمود اسی طرح رائے دینے کا حق حاصل نہیں جس طرح مردوں کو ہے۔اس لئے ان کے حقوق کی حفاظت کرنا بھی مردوں کا فرض ہے۔یہ نہیں چاہئے کہ انہیں جو حقوق حاصل ہیں ان کے راستہ میں بھی رکاوٹیں پیدا کی جائیں اس لئے کہ وہ بول نہیں سکتیں اور ہماری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی ضروریات بیان نہیں کر سکتیں۔ان کی اس پوزیشن سے ان کا حق بڑھ جاتا ہے، کم نہیں ہوتا۔عربی میں کہتے ہیں الْقَاسِمُ مَخرُوم تقسیم کرنے والا خود محروم رہتا ہے۔وہ خیال کرتا ہے کہ دوسروں کو دوں، میں تو خود بانٹنے والا ہوں۔تو مر د جو قانون بناتے ہیں اس وجہ سے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو قانون سازی کا حق دیا ہے۔انہیں چاہئے کہ عورتوں کو زیادہ حقوق دیں۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس سال عورتوں کے اعتکاف میں رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں کیونکہ گزشتہ سال بعض نے اچھا نمونہ نہیں دکھایا۔جہاں تک میری تحقیقات ہے اس معاملہ میں عورتوں کا قصور کم ہے، مردوں کا زیادہ ہے۔جو مرد ذمہ دار تھے۔انہوں نے سختیاں کیں۔تحقیقات کے کاغذات میں نے درد صاحب کو دیئے تھے۔وہ پتہ نہیں کیوں گم ہو گئے ورنہ میرا ارادہ تھا کہ ان لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے مگر شاید درد صاحب کو رحم آگیا یا کیا بات ہوئی وہ کاغذات ہی پتہ نہیں کہاں گئے۔میری بیویاں تو اعتکاف بیٹھنے نہیں آتیں۔اگر وہ آئیں اور ان سے ایسا سلوک ہو تو یقیناً مجھے بہت بُرا محسوس ہو گا اور جب وہی سلوک دوسروں کی بیویوں یالڑکیوں یا بہنوں سے ہو تو میں کیوں اسے بُرا محسوس نہ کروں۔ہر ایک کو یہی خیال کرنا چاہئے کہ اگر یہی سلوک اس کی ماں، بہن، بیوی یا بیٹی سے کیا جائے تو اسے کتنا برا محسوس ہو گا اور اس لئے جب دوسروں سے یہی سلوک ہو تو بھی اسے اسی طرح برا منانا چاہئے۔اپنے لئے اور قانون اور دوسروں کے لئے اور۔دوسروں کے لئے ٹھو کر کا موجب ہو تا ہے اور انسان کو خود بھی ایمان سے دور لے جاتا ہے۔" (الفضل 6 اکتوبر 1942ء) 1 بخاری کتاب الصيام باب تحرى ليلة القدر فى الوتر في العشر الاواخر 2 آرسنال (Arsenal): ہتھیاروں کا سٹور 3: الحديد : 13 4: جامع الاحادیث۔حدیث نمبر 44920