خطبات محمود (جلد 23) — Page 397
* 1942 397 خطبات محمود اچھا اللہ تعالیٰ ابھی کوئی انتظام کر دے گا۔اتنے میں ایک لڑکا حلوا بیچتا ہوا ادھر آنکلا۔انہوں نے اس سے حلوالے لیا، اس قرض خواہ کو بھی کھلایا کہ تاوہ ذرا ٹھنڈا ہو۔اپنے ساتھیوں کو بھی کھلایا اور اس حلوا فروخت کرنے والے لڑکے کو بھی کھلایا مگر جب لڑکے نے قیمت مانگی جو آٹھ آنہ کے قریب تھی تو اسے کہا کہ ابھی تو نہیں۔یہیں ٹھہر و، اللہ تعالیٰ بھیج دے گا۔وہ لڑکارونے لگا اور قرض خواہ نے اور بھی بُرا بھلا کہنا شروع کیا اور کہا کہ میرے پیسے تو دبائے ہی تھے اس غریب کے بھی دبائے۔وہ لڑکا روئے اور بزرگ کہیں کہ میاں ٹھہر واللہ تعالی سامان کر دے گا۔یہ سن کر اسے اور بھی یقین ہوتا جائے کہ اب پیسے نہیں ملیں گے اور وہ اور رونے لگے۔اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے اس بزرگ کو ایک پڑیا دی کہ فلاں شخص نے آپ کی خدمت میں یہ ہدیہ بھیجا ہے۔آپ نے اسے کھولا تو اس میں اتنے روپے تھے جتنے کا وہ قرض خواہ تقاضا کر رہا تھا، حلوے کی قیمت نہ تھی۔اس بزرگ نے اس شخص سے کہا کہ میاں تمہیں غلطی لگی ہے یہ ہمارے لئے نہیں۔اس نے کہا ہاں واقعی غلطی ہوئی۔ایک پڑیا کسی دوسرے کے لئے اس نے دی تھی۔میں نے غلطی سے آپ کی پڑیا اس کے لئے رکھ لی اور اس کی آپ کو دے دی۔چنانچہ اس نے دوسری پڑیا دی اور اسے کھولا تو اس میں حلوے کی قیمت بھی موجود پائی۔تو جب انسان تو کل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ خود اس کے لئے غیب سے سامان کر دیتا ہے۔اپنی ایمانی کمی کے نتیجہ میں تکلیف ہوتی ہے۔جو لوگ گھبر اکر بندوں کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں وہ خود اپنے لئے مصائب پیدا کرتے ہیں۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک بزرگ کا واقعہ کئی دفعہ سنا ہے جو دنیا سے علیحدہ ہو کر جنگل میں چلے گئے اور فیصلہ کیا کہ اب وہاں خدا تعالیٰ کی عبادت کریں گے اور بندوں سے کوئی سروکار نہیں رکھیں گے۔وہ جنگل میں رہنے لگے اور اللہ تعالیٰ ہر روز کسی نہ کسی کے دل میں تحریک کر دیتا اور وہ انہیں کھانا پہنچادیتا۔کچھ عرصہ کے بعد انہیں خیال آیا کہ میر اتو کل کامل ہو گیا ہے حالانکہ ابھی نہ ہوا تھا۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کی کمزوری کو واضح کرنا چاہا اور ایک دن کسی کے دل میں بھی انہیں کھانا پہنچانے کی تحریک نہ کی۔انہوں نے صبر سے کام لیا۔دوسرے دن پھر اللہ تعالیٰ نے کسی کو تحریک نہ کی اور انہوں نے پھر صبر سے کام لیا مگر تیسرے دن پھر اللہ تعالیٰ نے کسی کو تحریک نہ کی۔یہ دیکھ کر