خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 333

* 1942 333 خطبات محمود بینک لوٹ لئے۔امرتسر میں جو اتنا بڑا پر رونق شہر ہے لوگ بینک لوٹ کر گھروں میں لے گئے اور حکومت بالکل بے دست و پا ہو کر رہ گئی تھی اور جب میں نے ملک میں عام شورش کو دیکھ کر علاقہ کے سکھ رؤساء کو بلا بھیجا تا باہم مشورہ کر کے اس علاقہ میں امن قائم رکھنے کی تجاویز کریں تو جو آدمی ان کو بلانے کے لئے بھیجے گئے انہوں نے آکر مجھے خبر دی کہ ایک ایک کا دل بغاوت کے خیالات سے پر ہے۔میں نے انہیں منع کیا تھا کہ وہ انہیں میرے بلانے کی غرض نہ بتائیں اور انہوں نے آکر مجھے بتایا کہ انہوں نے جسے بھی میرا اپیغام دیا اس کا ذہن اس طرف نہیں گیا کہ قیام امن کے مشورہ کے لئے انہیں بلایا جا رہا ہے بلکہ جو بھی سنتا یہی جواب دیتا کہ اب انگریزوں کی حکومت تو جارہی ہے اب واقعی مرزا صاحب کو دوبارہ اس علاقہ میں اپنی حکومت قائم کرنی چاہئے اور اس میں ہم ان کے ساتھ ہیں۔وہ اس اجتماع کی غرض یہی سمجھے کہ ہم بھی لوٹ مار میں حصہ لینا چاہتے ہیں اور اس غرض سے ان کو بلا رہے ہیں کہ ہمارے ساتھ مل جائیں۔اس سے پتہ لگ سکتا ہے کہ کس طرح باغیانہ خیالات آگ کی طرح تمام ملک میں پھیل گئے تھے۔بے شک اتنا عرصہ گزرنے کے بعد آج بعض باتیں کانگرس کے خلاف بھی پیدا ہو چکی ہیں، کانگرس کی کئی تحریکات ناکام رہیں اور ناکامی کمزور دلوں کو مایوس کر دیا کرتی ہے۔اس وقت تو ہر ایک یہی سمجھتا تھا کہ کانگرس کی تحریک ضرور کامیاب ہو جائے گی اور اس لئے کمزور دل لوگ بھی اس کے جھنڈے تلے جمع ہو گئے تھے مگر آج کئی ناکامیوں کے بعد ایک ایسا طبقہ ملک میں پیدا ہو چکا ہے جو کانگرس کے دعوؤں پر یقین کرنے کے لئے تیار نہیں۔پھر ہندوؤں اور سکھوں میں بھی ایک ایسا طبقہ پیدا ہو چکا ہے جو اس جنگ کو انگریزوں کے لئے ہی نہیں بلکہ اپنے لئے بھی خطرناک سمجھتا ہے اور وہ کانگرس کی اس آواز کا جواب دینے کے لئے تیار نہیں ہو گا۔پھر اس جنگ میں لڑنے والی ایک حکومت مزدوروں کی حکومت ہے اور چونکہ انگریز اس کے ساتھ ہیں اس لئے ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو خیال کرتا ہے کہ یہ جنگ مزدوروں کی ہے اور مز دور ہی ہڑتالیں وغیرہ کیا کرتے ہیں۔جو سمجھتے ہیں کہ اس وقت انگریزوں کو پریشان کرنے والا کوئی کام نہیں کرنا چاہئے۔ان کے علاوہ اور بھی بعض باتیں کانگرس کے خلاف ہیں مگر بعض باتیں ایسی بھی ہیں جو آج اس کے ہاتھوں کو پہلے سے زیادہ مضبوط کرنے والی ہیں۔ان میں سے