خطبات محمود (جلد 23) — Page 311
* 1942 311 خطبات محمود یہ جانتے ہوئے نکلے کہ لڑائی میں شکست بھی ہو سکتی ہے اور انسان اپنی قوم میں زیادہ عزت حاصل کرنے کی بجائے رسوا ہو جاتا ہے اور ذلیل ہو جاتا ہے لیکن ان سب باتوں کے باوجود ابو جہل اور حضرت ابو بکر کے لڑائی میں جانے میں فرق تھا۔جہاں ابو جہل یہ سمجھتا تھا کہ اگر میں لڑائی میں مارا گیا تو حیات کا خاتمہ ہو جائے گا اور میرے جسم کے ساتھ ہی میری روح بھی فنا ہو جائے گی۔وہاں حضرت ابو بکر جانتے تھے کہ اگر میں لڑائی میں مارا گیا تو خدا تعالیٰ کی رحمت فرشتوں کے ساتھ استقبال کے لئے آئے گی اور میری روح اس فانی جسم اور کمزور زندگی کو چھوڑ کر ایسی زندگی حاصل کرے گی جس کی وسعتوں کا کوئی اندازہ نہیں اور انعامات کی کوئی حد بندی نہیں۔جہاں ابو جہل جانتا تھا کہ اگر لڑائی میں مارا گیا تو بیوی، بچوں، بہنوں، بھائیوں اور رشتہ داروں سے ہمیشہ کے لئے جدا ہو جاؤں گا۔وہاں حضرت ابو بکر جانتے تھے کہ اگر میں مارا گیا تو اپنے باپ دادا حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل علیہم السلام کے پاس جاؤں گا۔جہاں ابو جہل کو جدائی نظر آتی تھی وہاں حضرت ابو بکر کو وصال سامنے دکھائی دیتا تھا۔جہاں ابو جہل کے سامنے اگر یہ بات تھی کہ میں ایسا زخمی ہو سکتا ہوں کہ چار پائی پر ہی پڑے پڑے جان دینی پڑے، زندگی کا سکھ باقی نہ رہے اور ہمیشہ کے لئے بے کار ہو جاؤں۔وہاں حضرت ابو بکر بھی گو یہ سمجھتے تھے کہ ہو سکتا ہے لڑائی میں ایساز خمی ہو جاؤں کہ چار پائی پر ہی پڑے پرے جان دینی پڑے مگر وہ یہ بھی جانتے تھے کہ میں جسم کے بیکار ہونے سے بے کار نہیں ہو سکتا بلکہ میرا ایسے خدا سے واسطہ ہے جس کا جسم کے اعمال سے تعلق نہیں بلکہ قلب سے ہے۔اس خدا کے ساتھ جس کے حکم کے ماتحت رسول کریم صلی الیم نے ایک جنگ کے موقع پر اپنے صحابہ سے فرمایا کہ اس جنگ میں جو تکالیف تمہیں اٹھانی پڑ رہی ہیں ان پر فخر نہ کرو اور یہ نہ سمجھو کہ تم نے کوئی بڑا کام کیا ہے۔مدینہ میں بھی ایسے لوگ ہیں کہ جنہیں وہی ثواب پہنچتا ہے جو تمہیں پہنچتا ہے۔تم تکلیف کی کوئی وادی ایسی نہیں گزرتے کہ جو ثواب تمہیں ملتا ہے انہیں نہ ملتا ہو اور کوئی مشکل ایسی نہیں کہ جس کا ثواب تمہیں پہنچتا ہو اور انہیں نہ پہنچتا ہو۔صحابہ نے عرض کیا یا رَسُولَ اللہ ! اس کا کیا مطلب ہے ؟ تکالیف تو ہم اٹھاتے ہیں اور ثواب ان کو بھی مل جاتا ہے حالانکہ وہ گھروں میں بیٹھے ہیں؟ آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو سة