خطبات محمود (جلد 23) — Page 266
* 1942 266 خطبات محمود کچھ قربان کر کے خدا تعالیٰ کے دین کے لئے نکل کھڑے ہوں اور یہ کام آسان نہیں بلکہ لڑائی سے بہت زیادہ مشکل ہے۔لڑائی میں تو ہیں اور تلواریں ساتھ جاتی ہیں مگر اس لڑائی میں نہ توپ ساتھ ہوتی ہے، نہ تلوار ساتھ ہوتی ہے۔پس کون کہہ سکتا ہے کہ ہمارے ایمان کی آزمائش کا موقع کب آنے والا ہے۔یہ آزمائشیں جو اس وقت ہو رہی ہیں یہ تو بالکل ابتدائی ہیں اور ایسی ہی ہیں جیسے معمار اپنی ہتھوڑی سے اینٹ کے کنارے صاف کرتا ہے۔اینٹ کے کنارے صاف کرنا اس کا اصل کام نہیں ہو تا بلکہ اصل کام وہ ہوتا ہے جب اینٹ دیوار میں لگ جاتی ہے۔اسی طرح ابھی تو ہمارے کنارے صاف کئے جارہے ہیں۔پھر وہ وقت آئے گاجب ان اینٹوں کو دیوار میں لگا دیا جائے گا اور سارا بوجھ ان اینٹوں پر آپڑے گا۔اسی طرح جماعت کے جو کارکن ہیں ان کو بھی میں توجہ دلاتا ہوں کہ ان میں ایسے دوست اپنے نام مجھے یا دفتر امور عامہ میں لکھ کر بھجوا دیں۔جو اپنے اپنے علاقوں میں اس غرض کے لئے دورہ کرنے اور نوجوانوں کو بھرتی پر آمادہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔ہمارے خاندان میں سے ایک بچہ ، فوج میں گیا ہوا ہے۔باقی بچے اس قابل نہیں۔کسی کی آنکھیں کمزور ہیں اور کسی کی عمر نہیں۔ہمارے ایک اور بچے نے تین دفعہ بھرتی ہونے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔اس نے اس غرض کے لئے اپنی پڑھائی بھی چھوڑ دی تھی مگر کامیابی نہ ہوئی تو ہمارے خاندان نے اپنا نمونہ پیش کر دیا ہے۔یہ نہیں کہ ہم نے اپنے بچے چھپا کر رکھے ہوئے ہوں۔ایک بچہ فوج میں گیا ہوا ہے اور دوسرے نے پوری کوشش کی مگر اسے کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔غرض اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر یقین رکھتے ہوئے آئندہ سلسلہ کی خدمات کے لئے تیار کرنے اور اس وقت جنگی خدمات میں حصہ لینے کے لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ ہماری جماعت کے نوجوان زیادہ سے زیادہ تعداد میں اپنے آپ کو بھرتی کے لئے پیش کریں۔اسی طرح مجھے یا ناظر صاحب امور عامہ کو وہ دوست اپنے اپنے نام بھجوا دیں جو اپنے علاقوں میں اس غرض کے لئے دورہ کرنے کو تیار ہوں۔ایسے دوستوں کو چاہئے کہ وہ گاؤں گاؤں میں پھر کر نوجوانوں کو تلقین کریں اور ان میں سے جو قابل ہوں انہیں فوج میں بھرتی کرائیں۔میں نے جیسا کہ کہا ہے ایک دفعہ پھر اس امر کو واضح کر دینا چاہتاہوں کہ موت کا ڈر