خطبات محمود (جلد 23) — Page 264
* 1942 264 خطبات محمود دیں۔جو آدمی میں نے بھجوائے تھے ان سے اقرار لے لیا گیا تھا کہ وہ وہاں لڑائی نہیں کریں گے مگر خدا تعالیٰ کی قدرت سے جب وہ چلے گئے تو بعد میں کسی نے مشہور کر دیا کہ وہاں احمدی گئے ہیں ان کی جان کو خطرہ ہے۔اس کے نتیجہ میں بغیر میری اطلاع کے سو دو سو احمدی وہاں پہنچ گئے۔ادھر سے سکھ وغیرہ بھی اکٹھے ہو گئے۔جو لوگ میری طرف سے مقرر تھے۔انہوں نے ہماری جماعت کے دوستوں کو روک دیا کہ تم اس میں کچھ دخل نہ دو مگر جب ان میں سے ایک ہل چلانے لگا تو سکھوں میں سے کسی نے چاقو کے ساتھ اس پر حملہ کر دیا بچانے کے لئے نو آمدہ لوگوں میں سے ایک دو شخص آگے بڑھے ان میں سے ایک نے اس سکھ سے چاقو چھینے کی کوشش کی۔سکھوں نے اسے مارا۔یہ دیکھ کر ایک دو لڑکوں نے جو اپنے آپ کو قابو میں نہ رکھ سکے ان کا سامنا کیا۔مگر باوجود اس کے کہ سکھ تیس چالیس کے قریب تھے اور حملہ کرنے والے صرف دو تین سکول کے لڑکے تھے۔تھوڑی ہی دیر کے بعد وہ بھاگ نکلے۔مولوی سید سرور شاہ صاحب سناتے ہیں کہ جب میں نے یہ سنا کہ سکول کے لڑکے بھی اس طرف چلے گئے ہیں تو میں ڈرا کہ کہیں لڑکے کسی لڑائی میں ملوث نہ ہو جائیں۔چنانچہ میں اس طرف جا رہا تھا کہ آگے سے ایک سکھ جو چھ ساڑھے چھ فٹ لمبا تھا۔بے تحاشا دوڑتا ہوا آیا اور میرے سامنے ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا میں لڑائی میں شامل نہیں تھا۔خدا کے لئے مجھے بچائیے۔وہ کہتے ہیں میں حیران ہوا کہ اسے کس سے بچاؤں آخر پیچھے جو دیکھا تو بارہ تیرہ برس کا ایک لڑکا درخت کی ایک شاخ ہاتھ میں پکڑے اس کے پیچھے پیچھے دوڑا آرہا تھا اور وہ سکھ یہ شور مچاتا جا رہا تھا کہ مولوی صاحب مجھے بچالیں۔تو مومن کے جوش کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی طاقت نہیں ٹھہر سکتی اور میرے نزدیک تو وہ مومن ہی نہیں ہو سکتا جو یہ سمجھے کہ جاپانی یا جر من زیادہ بہادر ہیں۔میں تو ایک منٹ کے لئے بھی ایسے شخص کو احمدی نہیں سمجھ سکتا جو کسی جرمن یا جاپانی کو اپنے سے زیادہ بہادر سمجھتا ہو۔مومن کے تو معنے ہی یہی ہیں کہ وہ ہر غیر مومن سے اپنے آپ کو زیادہ بہادر سمجھے۔قرآن کریم نے سچے مومن کی شناخت کا معیار یہی بیان فرمایا ہے کہ ایک ایک مومن دس دس دشمنوں پر بھاری ہوتا ہے۔2 قرآن کریم نے یہ نہیں کہا کہ ایک ایک مومن دس دس