خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 254

* 1942 254 خطبات محمود بڑھ جائے گی لیکن اگر ہم دس ہزار مر گئے تو گو ہماری فوج سے دس ہزار کم ہو گا مگر ان کی فوج کے لئے بھی دس ہزار آدمیوں کو ہم مار ڈالیں گے۔چنانچہ لیبیا کی پہلی لڑائی میں انگریزوں نے چالیس ہزار قیدی بنائے تھے جن میں سے صرف دس ہزار جرمن تھے اور تیس ہزار اٹالین۔یہی حال روس کی جنگ کا ہے۔وہاں بھی جرمن بہت کم قید ہوتے ہیں اور اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں۔اگر ہم مر گئے تو ملک کو زیادہ فائدہ ہو گا بہ نسبت اس کے کہ ہم قیدی بن جائیں کیونکہ موت تو قید ہونے کی حالت میں بھی آسکتی ہے اور آزاد ہونے کی حالت میں بھی۔ہزاروں ہزار واقعات دنیا میں ایسے ہوتے رہتے ہیں کہ بعض دفعہ انسان بڑے غرور اور تکبر سے سمجھتا ہے کہ وہ دوسرے کو مار ڈالے گا مگر اچانک کوئی ایسا حادثہ ہو جاتا ہے کہ وہ خود ہلاک ہو جاتا ہے۔حضرت نظام الدین صاحب اولیاء کے متعلق لکھا ہے کہ دتی کے ایک بادشاہ کی ان سے رقابت ہو گئی۔جس کی وجہ یہ ہوئی کہ بعض لوگوں نے اس کے پاس شکایت کرنا شروع کر دی کہ بڑے بڑے لوگ آپ کے دربار میں کم آتے ہیں مگر نظام الدین صاحب اولیاء کے پاس بہت جاتے ہیں۔رفتہ رفتہ بادشاہ کے دل میں رنج پید اہو نا شروع ہو گیا اور آخر منصوبہ بازوں کی تحریک پر اس نے فیصلہ کیا کہ حضرت نظام الدین صاحب اولیاء کو قتل کر دیا جائے۔درباریوں میں سے ان کے جو معتقد تھے وہ دوڑے دوڑے حضرت نظام الدین صاحب اولیاء کے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ بادشاہ نے آپ کے قتل کا فیصلہ کیا ہے مگر کہا ہے کہ میں اب فلاں مہم پر جارہا ہوں وہاں سے واپس آکر انہیں قتل کروں گا۔انہوں نے کہا موت اور حیات اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے کسی بادشاہ کے اختیار میں نہیں۔خیر وہ مہم پر گیا اور جب واپس آنے لگا تو آپ کے مریدوں میں بے چینی پیدا ہونی شروع ہوئی اور انہوں نے کہا کہ ہمیں اجازت دیجئے۔ہم بادشاہ کے امراء اور وزراء سے مل کر اس کی ناراضگی کو دور کرنے کی کوشش کریں۔انہوں نے فرمایا ہنوز دتی دور است۔دو چار دن کے بعد پھر رپورٹیں پہنچیں کہ اب تو بادشاہ اور زیادہ قریب آگیا ہے چنانچہ انہوں نے پھر حضرت نظام الدین صاحب اولیاء کی خدمت میں عرض کیا کہ بادشاہ تو اور بھی قریب آگیا ہے۔انہوں نے پھر یہی جواب دیا کہ ہنوز دتی دور است۔غرض ہر ہر منزل پر مریدوں کی بے چینی بڑھتی جاتی اور وہ بار بار عرض کرتے کہ حضور بادشاہ