خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 241

خطبات محمود 241 * 1942 سے زیادہ ہے تو وہ صرف اپنی جہالت کا مظاہرہ کرتا ہے اور ایسے جاہل کی خاطر ہم ان مقامات کی محبت کو پیچھے نہیں ڈال سکتے۔مگر اس کے یہ معنے بھی نہیں کہ ہم وطن کی محبت میں اس معترض سے پیچھے ہیں۔بیشک دین کی محبت ہمارے دلوں میں زیادہ ہے مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ وطن کی محبت نہیں ہے۔اگر ہمارا ملک خطرہ میں ہو تو ہم اس کے لئے قربانی کرنے میں کسی ہندو سے پیچھے نہیں رہیں گے لیکن اگر دونوں خطرہ میں ہوں۔یعنی ملک اور مقامات مقدسہ ، تو مؤخر الذکر کی حفاظت چونکہ دین ہے اور زندہ خدا کی شعائر کی حفاظت کا سوال ہے۔اس لئے ہم اسے مقدم کریں گے۔بیشک ہم عرب کے پتھروں کو ہندوستان کے پتھروں پر فضیلت نہ دیں گے لیکن ان پتھروں کو ضرور فضیلت دیں گے جن کو خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے فضیلت کا مقام بنایا ہے۔کہتے ہیں ایک دفعہ قیس کتے سے پیار کر رہا تھا۔اس کے دوستوں نے دیکھا اور کہا۔قیس کیا تم پاگل ہو گئے ہو جو کتے سے پیار کر رہے ہو۔اس نے کہا۔نہیں میں کتے سے پیار نہیں کرتا۔انہوں نے کہا یہ تو ہم دیکھ رہے ہیں کہ تم کتے سے پیار کر رہے ہو۔اس نے کہا کہ یہ تو لیلی کا کتا ہے۔میں کتے سے نہیں بلکہ لیلیٰ کے کتے سے پیار کرتا ہوں۔کتے اور لیلیٰ کے کتے میں فرق کو عاشق ہی سمجھ سکتا ہے۔ایک مادہ پرست ہندو کیا جانتا ہے کہ وطن اور خدا تعالیٰ کے پیدا کر دہ شعائر میں کیا فرق ہے۔وہ عرفان اور نیکی نہ ہونے کی وجہ سے اس فرق کو نہیں سمجھ سکتا۔پس ہمیں ہندوستان بیشک عزیز ہے، اس کا ذرہ ذرہ عزیز ہے۔اگر کوئی غنیم باہر سے ہندوستان پر جارحانہ طور پر حملہ آور ہو تو باوجود بعض متعصب ہندوؤں کے جھوٹے اعتراضوں کے ہم اس کی حفاظت میں دوسروں سے پیچھے نہیں آگے ہوں گے خواہ غنیم کوئی مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيْمَانِ ہمارے ایمان کا جزو ہے مگر وہ گلیاں جن میں ہمارے پیارے آقا محمد مصطفی ملی لی لے چلتے رہے اور وہ پتھر جنہیں خد اتعالیٰ نے ہمارے لئے عبادت کا مقام بنایا۔ہمیں وطن سے زیادہ عزیز ہیں اور اس پر کوئی ہندو یا عیسائی حاسد جلتا ہے تو جل مرے۔ہمیں اس کی کوئی پروا نہیں۔66 1: المائدة : 68 (الفضل 3 جولائی 1942ء)