خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 240

* 1942 240 خطبات محمود کہ مسلمان خدا تعالیٰ کو گاندھی سے بڑا سمجھتے ہیں۔انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ملک کی محبت اپنی جگہ پر ہے اور دین کی اپنی جگہ۔دونوں آپس میں مقابلہ کی چیزیں نہیں ہیں بلکہ دونوں کا مقام الگ الگ ہے۔ہم یہ ہر گز نہیں مان سکتے کہ کوئی ہندو ملک کی محبت میں ہم سے بڑھ کر ہے اگر صرف ملک کی حفاظت کا سوال ہو تو ہم اس کے لئے ان سے زیادہ قربانی کرنے کو تیار ہیں لیکن دین کے مقابلہ میں اسے مقدم نہیں کر سکتے۔اگر کسی جگہ بھائی اور ماں کی حفاظت کا سوال ہو تو کوئی احمق ہی اعتراض کر سکتا ہے کہ فلاں شخص نے ماں کے لئے بھائی کو قربان کر دیا۔اور اگر والدین اور رسول کی حفاظت کے لئے قربانی کا سوال ہو تو کوئی احمق ہی کہہ سکتا ہے کہ رسول کے مقابلہ میں ماں باپ کو پیچھے ڈال دیا۔الله سة احد کی جنگ کا واقعہ ہے کہ جب مدینہ میں یہ غلط خبر پہنچی کہ رسول کریم صلی اللہ ہم نے شہادت پائی تو عور تیں اور بچے روتے ہوئے شہر سے باہر نکل آئے۔ایک صحابی جو میدان جنگ سے واپس لوٹ رہا تھا اور رسول کریم صلی الی یکم کو بخیر و عافیت دیکھ کر آیا تھا۔وہ ایک عورت کے پاس سے گزرا اور اس نے اس سے رسول کریم صلی الی یوم کا حال دریافت کیا۔اس کا دل چونکہ مطمئن تھا کہ آپ خیریت سے ہیں اس لئے اس نے اس عورت کے سوال کا تو خیال نہ کیا اور کہا بہن افسوس ہے۔تمہارا بھائی جنگ میں شہید ہو گیا۔اس نے کہا کہ تم مجھے رسول کریم صلی یی کم کا حال بتاؤ اس نے پھر بھی اس کے سوال کا جواب نہ دیا اور کہا۔افسوس تمہارا خاوند بھی شہید ہو گیا مگر اس عورت نے پھر بھی کوئی پرواہ نہ کی اور کہا۔مجھے یہ بتاؤ کہ رسول کریم صلی للی کم کیسے ہیں۔اس نے کہا افسوس تمہارا بیٹا بھی شہید ہو گیا۔اس نے کہا کہ میں اور کسی کا نہیں پوچھتی۔مجھے بتاؤر سول کریم صلی ال یکم تو خیریت سے ہیں۔اس نے کہا ہاں وہ تو خیریت سے ہیں۔یہ سن کر اس عورت نے کہا کہ وہ خیریت سے ہیں تو مجھے کسی اور کی شہادت کا غم نہیں۔کیا اس عورت کو اپنے خاوند سے محبت نہ تھی، بھائی سے محبت نہ تھی، بیٹے سے محبت نہ تھی؟ سب سے تھی مگر محبتوں کے بھی درجے ہوتے ہیں۔اسے رسول کریم صلی اللیل کلیم سے محبت سب سے بڑھ کر تھی۔پس احمق اور نادان ہے وہ انسان جو سمجھتا ہے کہ ہر محبت وطن کی محبت میں مرکوز ہو جانی چاہئے۔اگر کوئی ہندو اعتراض کرتا ہے کہ ہمارے دلوں میں خانہ کعبہ کی یا مکہ کی محبت وطن