خطبات محمود (جلد 23) — Page 234
* 1942 234 خطبات محمود اس لئے مسلمان ہتھیار لے کر باہر کی طرف بھاگے مگر چند صحابی دوڑ کر مسجد نبوی میں جمع ہو گئے۔لوگوں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے حملہ کا خوف تو باہر سے تھا۔آپ لوگ مسجد میں کیوں آبیٹھے۔انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں تو یہی جگہ حفاظت کئے جانے کے قابل نظر آتی ہے۔اس لئے یہیں آگئے۔میں نے بارہا جنگ بدر کا واقعہ سنایا ہے کہ جب رسول کریم ملی ایم نے صحابہ سے مشورہ طلب فرمایا کہ لڑائی کی جائے یا نہ کی جائے تو مہاجرین یکے بعد دیگرے اٹھتے اور لڑائی کا مشورہ دیتے مگر آپ ہر ایک مہاجر کا مشورہ سن کر فرماتے کہ لوگو مشورہ دو۔انصار خاموش تھے اور ان کی خاموشی کی وجہ یہ تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ مکہ والے مہاجرین کے رشتہ دار ہیں۔ہم نے ان سے لڑائی کا اگر مشورہ دیا تو مہاجرین یہ نہ کہیں کہ یہ ہمارے بھائیوں سے لڑائی کا مشورہ دیتے ہیں۔اس لئے وہ خاموش تھے اور مہاجرین لڑائی کا مشورہ باری باری دیتے تھے مگر رسول کریم صلی الی یکم بار بار یہی فرماتے کہ لوگو مشورہ دو۔اس پر ایک انصاری سر دار کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! مشورہ تو دیا جا رہا ہے مگر آپ پھر مشورہ دریافت فرماتے ہیں۔شاید آپ کی مراد یہ ہے کہ انصار بولیں۔آپ نے فرمایا۔ہاں۔اس سردار نے کہا کہ یارسول اللہ ! بے شک مکہ میں بیعت کرتے وقت ہم نے آپ سے یہ اقرار کیا تھا کہ اگر دشمن مدینہ پر حملہ آور ہو گا تو ہم آپ کی حفاظت کے ذمہ دار ہوں گے۔مدینہ سے باہر نہیں مگر یہ اقرار تو اس وقت کیا تھا جب ہم پر آپ کی شان کھلی نہ تھی۔اب تو آپ کی شان ہم پر کھل چکی ہے۔اب تو ہم سے پوچھنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اگر آپ کا ارادہ لڑنے کا ہے تو بسم اللہ چلئے۔ہمارا تو ایک ہی کام ہے کہ آپ کے چاروں طرف لڑیں۔ہم آپ کے دائیں لڑیں گے ، بائیں لڑیں گے ، آگے لڑیں گے اور پیچھے لڑیں گے اور کوئی دشمن آپ تک ہر گز نہ پہنچ سکے گاجب تک وہ ہماری لاشوں پر سے نہ گزرے۔2 پھر انہوں نے اسی پر کفایت نہیں کی بلکہ ایک اونچی جگہ آپ کے لئے بنادی اور باصرار آپ سے عرض کیا کہ اس جگہ تشریف رکھیں اور دعا کریں۔حضرت ابو بکر کو آپ کے پاس بٹھا دیا اور سب سے زیادہ تیز رفتار دو اونٹنیاں آپ کے پاس باندھ دیں اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ! مدینہ والوں کو علم نہ تھا کہ جنگ ہونے والی ہے اس لئے تھوڑے لوگ ساتھ آئے