خطبات محمود (جلد 23) — Page 235
خطبات محمود 235 * 1942 ہیں اور جو پیچھے رہے ہیں۔وہ اخلاص اور ایمان کے لحاظ سے ہم سے کم نہیں ہیں۔ہم نے بہترین اونٹنیاں آپ کے پاس باندھ دی ہیں اور اپنے میں سے بہترین امین جس پر ہم کو سب سے زیادہ اعتبار ہے آپ کے پاس بٹھا دیا ہے۔یارسول اللہ اگر ہم مارے گئے تو آپ خدا تعالیٰ کی رحمت کے نیچے ان اونٹنیوں پر سوار ہو کر ابو بکر کے ساتھ مدینہ چلے جائیں وہاں ہمارے بھائی ہیں جو آپ کے لئے اسی طرح قربانیاں کرنے کو تیار ہیں جس طرح ہم کر رہے ہیں۔یہ قربانیاں کرنے والے جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے عرش سے آپ کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہوا ہے اور الله سة 3 فرمایا ہے کہ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ یعنی اے محمد (صل الی اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کے حملوں سے بچائے گا مگر باوجود اس وعدہ کے جو قربانیاں انہوں نے آپ کی حفاظت کے لئے کیں۔کیا اس کے یہ معنے ہیں کہ ان کا ایمان کمزور تھا اور وہ خدا تعالیٰ کو اس وعدہ کو پورا کرنے پر قادر نہ سمجھتے تھے یا کیا وہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کوئی وعدہ نہیں فرمایا بلکہ نَعُوذُ بِاللہ محمد (صلی الیکی) نے اپنے پاس سے بنالیا ہے۔ان کی قربانیاں اور ان کا اخلاص دونوں بتاتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بات بھی ان کے وہم یا خیال میں نہ تھی۔ان کو یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ نے عرش سے آپ کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے اور انہیں یہ بھی یقین تھا کہ وہ آپ کو بچانے کی طاقت رکھتا ہے اور اپنے وعدہ کو پورا کرنے کے لئے سامان مہیا کر سکتا ہے مگر ان کی تمنا ان کی آرزو اور ان کی خواہش یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ محمد (صلی لی کر) کو بچانے کے لئے جو ہتھیار اپنے ہاتھ میں لے وہ ہم ہوں۔انہیں خدا تعالیٰ کے وعدے پر شک نہ تھا۔آنحضرت صلی اینم کی زبان پر شک نہ تھا بلکہ حرص تھی کہ اس وعدہ کو پورا کرنے کا جو ذریعہ اللہ تعالیٰ اختیار کرے وہ ہم ہوں۔وہ چاہتے تھے کہ کاش وہ ذریعہ جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچانے کا اختیار کرنا ہے وہ ہم بن جائیں اور وہ بن گئے اور انہوں نے متواتر دس سال تک اپنی جانوں اور عزیز ترین رشتہ داروں کی جانوں کو قربان کر کے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا ہتھیار ثابت کر دیا۔وہ مہاجر اور وہ انصار اس وعدہ کو پورا کرنے کا ذریعہ بن گئے جنہوں نے محمد مصطفی اصلی اینیم کے آگے اور پیچھے ہو کر ہر موقع پر جنگ کی۔ان کی اول خواہش اور تمنا بھی اور ان کی آخری خواہش اور تمنا بھی یہی تھی کہ کاش وہ فنا ہو جائیں، وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں مگر آنحضرت صلی اللہ تم پر پر