خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 20

* 1942 20 خطبات محمود بھی کیا کہ میں تیری نسل کو بھی بڑھاؤں گا اور اسے ہمیشہ سرسبز و شاداب رکھوں گا۔یہ ایک مادی انعام ہے جو روحانی انعام کے ساتھ آپ کو حاصل ہوا اور جس سے اللہ تعالیٰ کی غرض یہ ہوتی ہے کہ جو لوگ روحانی انعام سے سبق حاصل نہیں کرتے وہ مادی انعام سے ہی سبق حاصل کر لیں کیونکہ دنیا میں ایک طبقہ ایسے لوگوں کا بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کے روحانی انعامات کو نہیں دیکھتا بلکہ اس کے مادی انعامات کو دیکھتا ہے۔اسی طرح بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے روحانی عذاب سے فائدہ نہیں اٹھاتے البتہ کسی پر جسمانی عذاب نازل ہو تو اس سے ان کو بڑی عبرت ہوتی ہے۔ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ بعض دفعہ جسمانی عذاب کا نظارہ بھی دکھا دیتا ہے جیسے فرعون اس وقت ایک روحانی عذاب میں بھی مبتلا ہے مگر کئی لوگ ہیں جو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہمیں اگلے جہان کا کیا پتہ۔معلوم نہیں اسے عذاب ہو رہا ہے یا نہیں ہو رہا۔ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے جسمانی عذاب کا نظارہ دکھانے کے لئے فرعون کی لاش کی حفاظت کی جو آج تک موجود ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ جو فرعون کی لاش کی حفاظت کے متعلق تھا ؟ ایک دنیوی عذاب تھا جو فرعون کو ملا۔چنانچہ آج ہر شخص جو موسیٰ کو ماننے والا ہے، ہر شخص جو عیسی کو ماننے والا ہے، ہر شخص جو محمد رسول اللہ صلی لیلی کیم کو ماننے والا ہے۔جب بھی فرعون کی لاش کو دیکھتا ہے اس پر لعنت ڈالتا ہے۔یہ کتنا بڑا عذاب ہے جو فرعون کو مل رہا ہے۔پھر اس عذاب کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ فرعون ان بادشاہوں میں سے تھا جو اپنے منہ پر ہمیشہ نقاب اوڑھے رہتے تھے اور انہوں نے لوگوں میں یہ مشہور کر رکھا تھا کہ جو بادشاہ کی شکل دیکھ لے وہ کوڑھی ہو جاتا ہے کیونکہ وہ اس کی ہتک کرتا ہے۔اسی لئے وہ ہمیشہ اپنے منہ پر نقاب رکھتے تھے یہ بتانے کے لئے کہ ہم ایسے عالیشان انسان ہیں کہ ہماری شکل دیکھنا بھی ہر کس و ناکس کا کام نہیں۔اور اگر کسی شخص کے لئے بادشاہ اپنا نقاب اٹھادیتا تھا تو وہ بہت بڑا مقرب سمجھا جاتا تھا اور وہ اپنی قوم کا سردار بن جاتا تھا۔مگر آج اس کی لاش عجائب گھر میں پڑی ہوئی ہے اور دو دو آنے کا ٹکٹ لے کر ہر چوڑھا اور بھنگی بھی اسے دیکھ سکتا ہے اور جس طرح بندر کا تماشادیکھا جاتا ہے اسی طرح فرعون کی لاش دیکھی جاتی ہے۔پھر دیکھنے والا کن جذبات کے ماتحت اسے دیکھتا ہے۔اچھے جذبات کے ماتحت نہیں بلکہ ہر دیکھنے والا اس پر