خطبات محمود (جلد 23) — Page 21
خطبات محمود 21 $1942 لعنت ڈالتا ہے اور کہتا ہے کہ خبیث تو تھا موسیٰ کو دکھ دینے والا ! تو اللہ تعالیٰ کبھی کبھی روحانی عذابوں کے ساتھ جسمانی عذاب کا سلسلہ بھی جاری کر دیا کرتا ہے اور کبھی کبھی روحانی انعاموں کے علاوہ جسمانی انعام بھی قربانی کرنے والوں پر نازل کر دیتا ہے۔پس بالکل ممکن ہے کہ جو لوگ تحریک جدید میں حصہ لے رہے ہیں۔ان میں سے اعلیٰ درجہ کی قربانی کرنے والے لوگوں کو اللہ تعالیٰ صرف اپنے روحانی انعامات ہی نہ دے بلکہ اپنے جسمانی انعامات سے بھی انہیں حصہ عطا فرمائے۔کیونکہ جس طرح ہم نے قربانی کے مختلف درجے مقرر کئے ہوئے ہیں۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے حضور قربانیوں کے مختلف مدارج ہیں۔پس بالکل ممکن ہے کہ جو لوگ اعلیٰ درجہ کی نیت کے ساتھ قربانی کرنے والے ہیں۔خدا تعالیٰ ان کے متعلق یہ فیصلہ فرما دے کہ ان کے جسمانی نام کو بھی قائم رکھا جائے گا اور ان کے روحانی نام کو بھی قائم رکھا جائے گا۔مگر اس کا تعلق روپیہ سے نہیں بلکہ نیت کے ساتھ ہے۔اگر ایک شخص تحریک جدید میں سو روپیہ چندہ دیتا ہے مگر در حقیقت وہ ایک ہزار روپیہ دینے کی توفیق رکھتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کے سو روپیہ چندہ کو کبھی اعلیٰ قربانی قرار نہیں دے گا۔اسی طرح اگر کوئی شخص دس ہزار روپیہ دینے کی توفیق رکھتا ہے مگر وہ صرف ایک ہزار روپیہ چندہ دیتا ہے تو اس کا ایک ہزار روپیہ دینا خدا تعالیٰ کے نزدیک ہر گز ا علیٰ قربانی نہیں کہلا سکتا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ انسان کی نیت کو دیکھتا اور اس کے مطابق اس سے سلوک کرتا ہے۔ا پس اپنی نیتوں کو درست کرو اور ان نیتوں کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرو تا کہ اس دس سالہ جہاد کا اختتام تمہیں اس دس سالہ جہاد کے آغاز سے بہت زیادہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث کرے اور تاکہ تمہارے بیعت میں داخل ہونے والے دن سے تمہاری موت کا دن تمہارے لئے زیادہ شاندار ہو۔بالعموم انسان جب کسی صداقت کو قبول کرتا ہے تو ابتدا میں اس کے اندر بڑا ولولہ اور جوش ہوتا ہے مگر آہستہ آہستہ کم ہو نا شروع ہو جاتا ہے۔لیکن مومن وہ ہے جس کی موت کا دن اس کی بیعت کے دن سے زیادہ بابرکت ہو۔بیعت کیا ہے؟ بیعت ایک انسان کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دینے کا نام ہے۔مگر تم جانتے ہو زندگی کی بیعت تو کسی بندے کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے کر کی جاتی ہے مگر موت کی بیعت خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے کر