خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 156

* 1942 156 خطبات محمود بلکہ خود دشمنوں کی ہوتی ہے۔یہیں قادیان میں ایک دفعہ غیر احمدیوں کا جلسہ ہوا۔مولوی ثناء اللہ صاحب کو بھی انہوں نے تقریر کے لئے بلایا۔انہوں نے بڑے فخر سے بیان کیا کہ قادیانی میرے مقابلہ میں اپنی کامیابی کے دعوے کرتے رہتے ہیں۔ان کا امام میرے ساتھ کلکتے تک چلے اور پھر دیکھے قادیان سے کلکتے تک کس کو پھول پڑتے ہیں اور کس پر پتھر برستے ہیں۔میں نے اس کے جواب میں کہا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے اپنے جھوٹے ہونے کی خود شہادت دے دی ہے کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ پتھر ابو جہل کو پڑے تھے یا محمدعلی ای کرم کو پڑے تھے۔پتھر فرعون کو پڑے تھے یا موسیٰ کو پڑے تھے۔بے شک اگر میں ان کے ساتھ جاؤں تو قادیان سے سے کلکتے تک ان پر پھول پڑیں گے اور مجھ پر پتھر۔مگر اس طرح قادیان سے کلکتے تک کی زمین کا ہر چپہ یہ شہادت بھی دے گا کہ میں محمد صلی للی کم کا خلیفہ ہوں اور مولوی ثناء اللہ صاحب ابو جہل کے مثیل ہیں۔ہر پھول جو ان پر پڑے گاوہ انہیں ابو جہل ثابت کرے گا اور ہر پتھر جو مجھ پر پڑے گا وہ مجھے محمد علی ملی یکم کا نائب اور آپ کا خلیفہ ثابت کرے گا۔غرض ان باتوں سے کیا بنتا ہے ؟ ان سے خدائی سلسلوں کی ہتک نہیں ہوا کرتی، صرف اس سے اس کینے اور بغض کا پتہ چل جاتا ہے جو مخالفوں کے دلوں میں ہوتا ہے اور یہی کینہ اور بغض بعض دفعہ گورنمنٹ کے بعض افسروں میں بھی پایا جاتا ہے۔وہ مذہب کے اختلاف کی وجہ سے پہلے ہی دوسرے مذاہب کے لوگوں سے تعصب رکھتے ہیں پھر جب افسر بنتے ہیں تو اس وقت بھی اس غضب کا شکار ہوتے ہیں چنانچہ دیکھ لو ایک تھانیدار جب اپنی کرسی پر بیٹھتا ہے تو اس وقت اسلام کا تعصب یا ہندو مذہب کا تعصب یا سکھ مذہب کا تعصب اس کے دل سے نکل تو نہیں جاتا۔ہنر ا رہا واقعات دنیا میں ایسے ہوتے رہتے ہیں جن کے متعلق لوگ کہتے ہیں کہ فلاں مسلمان تھانیدار تھا۔اس لئے اس نے مسلمانوں کی رعایت کی یا فلاں ہندو تھانیدار تھا اس نے ہندوؤں کی رعایت کی یا فلاں سکھ تھانیدار تھا اس نے سکھوں کی رعایت کی۔ابھی گزشتہ دنوں ڈھاکہ میں فسادات ہوئے تھے۔گورنمنٹ نے بڑے بڑے معزز افسر اس کی تحقیق کے لئے بطور کمیشن مقرر کئے۔کل پرسوں ہی ان کی رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ہم تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ فسادات کے دوران میں پولیس کے افسروں نے