خطبات محمود (جلد 23) — Page 135
* 1942 135 خطبات محمود سے زیادہ کرایہ حاصل کرنے کے لئے کسی کو نکالے گا تو اس وقت کرایہ دار کی حمایت کی جائے گی۔پس نظارت امور عامہ اس بات کا خیال رکھے کہ نہ مالک مکان کو نقصان ہو اور نہ کرایہ دار کو۔اگر کسی مکان کا کرایہ مناسب اور صحیح ہے تو کرایہ دار کو نکالا نہیں جاسکتا اور اگر صحیح نہیں تو اسے بڑھایا جاسکتا ہے جو کرایہ دار کو دینا ہو گا ورنہ مکان خالی کر دینا ہو گا۔جو لوگ باہر سے آتے ہیں اور کرایہ پر مکان تلاش کرتے ہیں۔میں ان کو بھی یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایسے تکلیف کے ایام میں ضروری نہیں کہ عمدہ اور پختہ مکانوں میں ہی رہا جائے۔لوگ تکلیف کے وقت شہروں کو چھوڑ کر خیموں اور چھپروں میں بھی گزارہ کر لیتے ہیں۔اس لئے جن لوگوں کو مکان نہیں مل رہے وہ کوئی عارضی انتظام کر لیں۔سلسلہ کے مشورہ سے کوئی زمین لے لی جائے اور وہاں چھپر وغیرہ ڈال لئے جائیں یا ایسے سامان کر لئے جائیں جنہیں بعد میں آسانی سے اتارا جا سکے مثلاً بانس کی چھتیں ڈال لی جائیں۔سندھ میں ہم نے جو مکان اپنی رہائش وغیرہ کے لئے بنائے ہیں سالہا سال ان کی چھتیں بانسوں کی ہی رہیں اور اب تک ان میں سے اکثر کی چھتیں بانسوں کی ہیں اور وہاں ہمارے جو افسر رہتے ہیں وہ سب ایسے ہی مکانوں میں رہتے ہیں اور پنجابی تو چند سالوں سے وہاں گئے ہیں۔سندھی لوگ کئی سو سالوں سے اسی طرح کے مکانوں میں رہتے ہیں۔پس ایسے مکان یہاں بھی تیار کرائے جاسکتے ہیں۔یہ صحیح ہے کہ اس طرح کے مکان بنانے میں تھوڑا سا نقصان ہو گا لیکن یہ امید نہیں رکھنی چاہئے کہ خطرہ کی حالت ہو اور اس سے بچنے کے انتظام کرنے میں کوئی نقصان بھی نہ ہو۔پس اگر دوست چاہیں تو ایسے ساٹھ ستر بلکہ سو مکان بنائے جاسکتے ہیں۔دیواریں اینٹوں کی اور چھتیں بانس کی ہوں۔بعد میں ان اینٹوں کو فروخت بھی کیا جاسکتا ہے یا پھر کچی اینٹوں کے مکان بنا دیئے جائیں۔اس میں کوئی حرج نہیں۔پختہ مکان اس وقت بناناتو سراسر نقصان ہے کیونکہ اینٹ جو پہلے آٹھ روپیہ میں ہزار ملتی تھی بلکہ ادنی درجہ کی چھ روپیہ میں بھی ہزار مل جاتی تھی اب ہمیں اکیس روپیہ ہزار ملتی ہے۔گویا پہلے جو مکان پانچ ہزار میں تیار ہو سکتا تھا اب پندرہ ہزار میں ہو گا اور اتنی لاگت سے اس وقت مکان بنایا جائے۔کیا امید کی جاسکتی ہے کہ جنگ کے بعد کوئی شخص اس کا کرایہ تین ہزار روپیہ کی مالیت کے مکان کے کرایہ کے برابر بھی دے گا۔پس ان حالات میں روپیہ کو خطرہ میں ڈالنا نادانی ہے۔اس وقت تو