خطبات محمود (جلد 23) — Page 117
* 1942 117 خطبات محمود بھی استعمال ہو سکتے تھے۔خدا تعالیٰ نے وہ الفاظ استعمال نہیں کئے بلکہ حسنہ کا لفظ استعمال کیا ہے اس لئے کہ یہ لفظ ظاہری اور باطنی دونوں خوبیوں پر دلالت کرتا ہے۔ہو سکتا ہے کہ ایک چیز اپنے فوائد اور خوبیوں کے لحاظ سے اچھی ہو مگر ظاہری صورت کے لحاظ سے اچھی نہ ہو مثلاً کسی شخص کی بیوی بڑی با اخلاق ہو مگر فرض کرو وہ نکی ہے یا اندھی ہے یا بہری ہے تو وہ حسنہ نہیں کہلائے گی۔حسنہ وہی بیوی کہلائے گی جس کے اخلاق بھی اچھے ہوں اور شکل بھی اچھی ہو، ظاہر بھی اچھا ہو اور باطن بھی اچھا ہو۔تو حسنہ کا لفظ ظاہری اور باطنی دونوں خوبیوں پر دلالت کرتا ہے اور مومن اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا ہے کہ خدایا مجھے جو چیز بھی دے وہ ایسی ہو جو ظاہری اور باطنی دونوں خوبیاں رکھتی ہو۔پھر فرمایا وَ في الْآخِرَةِ حَسَنَةٌ آخرت میں بھی ہمیں وہ چیز دے جو حسنہ ہو۔یعنی وہ بھی ظاہر و باطن میں ہمارے لئے اچھی ہو۔ممکن ہے کوئی کہے کہ آخرت میں تو ہر چیز اچھی ہوتی ہے وہاں کی چیزوں کے لئے حسنہ کا لفظ کیوں استعمال کیا گیا ہے۔سو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ بات بالکل غلط ہے۔آخرت میں بھی بعض چیزیں ایسی ہیں جو باطن میں اچھی ہیں مگر ظاہر میں بُری ہیں مثلاً دوزخ ہے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ دوزخ انسان کی اصلاح کا ذریعہ ہے۔پس ایک لحاظ سے وہ بُری بھی ہے۔پس جب آخرت کے لئے بھی خدا تعالیٰ نے حسنہ کا لفظ رکھا تو اسی لئے کہ تم یہ دعا کرو کہ الہی ہماری اصلاح دوزخ سے نہ ہو بلکہ تیرے فضل سے ہو اور آخرت میں ہمیں وہ چیز نہ دیجیو جو صرف باطن میں ہی اچھی ہو جیسے دوزخ باطن میں اچھا ہے کہ اس سے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے مگر ظاہر میں بُرا ہے کیونکہ وہ عذاب ہے۔آخرت میں حسنہ صرف جنت ہے جس کا ظاہر بھی اچھا ہے اور جس کا باطن بھی اچھا ہے۔پھر فرمایا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ہم کو عذاب نار سے بچا۔اس سے مراد وہی عذاب نار نہیں جو مرنے کے بعد ملے گا۔یہ عذاب نار دنیا کے ساتھ بھی تعلق رکھتا ہے کیونکہ دنیا اور آخرت دونوں کے ساتھ تعلق رکھنے والی دعاؤں کے بعد وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کہا گیا ہے۔پس وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کے معنی یہ ہیں کہ ہمیں دنیا کے عذاب نار سے بھی بچا اور آخرت کے عذاب نار سے بھی محفوظ رکھ۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں دنیا میں کئی لوگ عذاب نار میں گرفتار