خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 92

* 1942 92 خطبات محمود یہ آیت پڑھی کہ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ 2 میں نے سمجھ لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ہی تصرف ہے کہ اس نے اس کی زبان سے یہ آیت نکلوائی۔چنانچہ میں نے اس سے کہا یہ آیت کن لوگوں کے متعلق ہے۔مسلمانوں کے متعلق ہے یا غیر۔مسلموں کے متعلق۔اس کا اصل سوال یہ تھا کہ جب مسلمان نمازیں پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، حج کرتے ہیں اور خدا اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں تو ان کے لئے کسی نبی کی کیا ضرورت ہے؟ جب اس نے یہ آیت پڑھی تو میں نے اس سے پوچھا کہ یہ آیت کن لوگوں کے متعلق ہے۔اس نے کہا مسلمانوں کے متعلق۔میں نے کہا تو پھر یہ آیت بتاتی ہے کہ مسلمانوں میں بھی بعض لوگ خراب ہو جاتے ہیں۔وہ مُنہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں مگر در حقیقت وہ مومن نہیں ہوتے اور قرآن یہ بتاتا ہے کہ خالی اپنے آپ کو مومن کہہ لینا کافی نہیں جب تک انسان اپنے عمل سے بھی ایمان کا ثبوت نہ دے۔اب آپ ہی بتائیں کہ جب مسلمان بھی بگڑ سکتے ہیں تو کیا خدا ان کی اصلاح کے لئے کسی نبی کو بھیجے گایا نہیں بھیجے گا۔دلوں کو تسلی دینا تو خدا کا کام ہے مگر اس کی زبان بند ہو گئی اور وہ اس کا کوئی جواب نہ دے سکا اور اس بات کا میرے دل میں پہلے ہی یقین تھا کہ جو آیت اس کے منہ سے نکلے گی وہ وہی ہو گی جس سے اس کی زبان بند ہو جائے گی۔تو علم بھی خدا کے اختیار میں ہے ، جرآت بھی خدا کے اختیار میں ہے ، عزت بھی خدا کے اختیار میں ہے اور سخاوت بھی خدا کے اختیار میں ہے۔بڑے بڑے بہادر ہوتے ہیں مگر جب خدا ان کے دلوں سے بہادری نکال لیتا ہے تو وہ بزدل ہو جاتے ہیں۔فتح مکہ کے بعد جب ہوازن کی طرف سے حملہ کی تیاریاں ہونے لگیں تو رسول کریم صلی می کنم نے مسلمانوں کو ان کا مقابلہ کرنے کا حکم دیا اور مکہ کے نو مسلموں کو بھی اس جنگ میں شریک ہونے کی اجازت دے دی۔چنانچہ مکہ کے دو ہزار نو مسلم بڑی بڑی لافیں مارتے اور اپنی بہادری کے دعوے کرتے ہوئے نکلے مگر جب ہوازن نے زور سے حملہ کیا اور تیروں کی بوچھاڑ ڈالی تو سب سے پہلے وہ میدان جنگ سے بھاگ نکلے۔اُن کے بھاگنے کی وجہ سے مسلمانوں میں بھی بھگدڑ مچ گئی اور ان کے اونٹ اور گھوڑے میدان جنگ سے دوڑ پڑے۔وہ کوشش کرتے تھے کہ اپنی سواریوں کو روکیں مگر سواریاں تھیں کہ کسی طرح مڑنے میں نہیں آتی تھیں۔صرف