خطبات محمود (جلد 23) — Page 83
1942ء 83 خطبات محمود تجھے نصیب نہیں ہونے دوں گا اور سر کے پاس سے تیری گردن کاٹوں گا چنانچہ انہوں نے سر کے پاس سے اس کی گردن کائی۔ 7 تو دیکھو وہ قوم جو اتنی ذلیل سمجھی جاتی تھی کہ اس کے افراد کو لڑائی کے قابل ہی خیال نہیں کیا جاتا تھا محمد صلی الم پر ایمان لانے کے طفیل اس میں کتنا تغیر پیدا ہوا کہ ابو جہل مرتا ہے تو اس حسرت کے ساتھ کہ مجھے مدینہ کے دو لڑکوں نے مارا۔ وہ کہتا ہے مرنے کی پر واہ نہیں۔ سپاہی لڑائی میں مراہی کرتے ہیں مجھے حسرت اور افسوس ہے تو یہ کہ مدینہ کے دولڑکوں نے مجھے مارا۔ گویا وہ لوگ جنہیں عرب سپاہی تک نہیں سمجھتے تھے جب محمد صلی الم پر ایمان لائے تو وہ خدا جس کے قبضہ میں دل ہیں اور جو کمزور کو قوی بنانے کی طاقت رکھتا ہے اس نے ان کو ایسا بہادر اور جری بنادیا کہ ایک تجربہ کار جرنیل جس بات کو نا ممکن سمجھتا تھا خدا نے وہ کام اس قوم کے دو بچوں کے ہاتھ سے کرا دیا۔ پھر عرب لوگوں کے اندر اس قدر غیرت ہوا کرتی تھی کہ وہ غیرت میں اپنی ہر چیز کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاتے تھے۔ مگر دیکھو پھر کس طرح خدا نے ان کے دل بدل ڈالے اور ان کے دلوں سے جھوٹی غیرت کا احساس تک جاتا رہا۔ ایک نوجوان ایک دفعہ شادی کے لئے ایک شخص کے پاس پہنچا اور کہنے لگا میں تیری لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے کہا کہ میں بھی تجھے ہر طرح پسند کرتا ہوں اور مجھے اپنی لڑکی کا تجھ سے نکاح کر دینے میں کوئی عذر نہیں۔ نوجوان نے کہا مگر میں لڑکی کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ اس شخص نے کہا یہ نہیں ہو سکتا کہ میں تجھے اپنی لڑکی دکھا دوں۔ وہ رسول کریم صلی اللی ام کے پاس گیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں ایک لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں مگر اس کا باپ لڑکی کی شکل مجھے نہیں دکھاتا۔ رسول کریم صلی الم نے فرمایا وہ غلطی کرتا ہے۔ اسے لڑکی دکھا دینی چاہئے۔ وہ پھر اس کے پاس پہنچا اور کہنے لگا تم نے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ میں لڑکی نہیں دکھاتا۔ میں نے اس بارہ میں رسول کریم صلی علیم سے پوچھا ہے اور آپؐ نے فرمایا ہے کہ نکاح کے موقع پر لڑکی کو دیکھ لینا جائز ہے۔ باپ کہنے لگا جائز ہو گا مگر میں تمہیں نہیں دکھاتا۔ جائز ہونا اور بات ہے اور میرا تمہیں اپنی لڑکی دکھانا اور بات ہے۔ تم کسی اور جگہ رشتہ کر لو۔ اس کی