خطبات محمود (جلد 23) — Page 84
خطبات محمود 84 * 1942 لڑکی اندر بیٹھی ہوئی یہ تمام باتیں سن رہی تھی۔جو نہی اس نے یہ بات سنی وہ فوراً نگے منہ باہر نکل آئی اور کہنے لگی۔باپ! آپ کیا کہتے ہیں؟ جب محمد رسول اللہ صلی ال نیم کہتے ہیں کہ لڑکی کو نکاح سے قبل دیکھ لینا جائز ہے تو آپ کو اس سے کیا انکار ہو سکتا ہے۔پھر وہ اس نوجوان سے کہنے لگی لو میں تمہارے سامنے کھڑی ہوں مجھے دیکھ لو۔اس نوجوان نے کہا مجھے دیکھنے کی ضرورت نہیں مجھے ایسی ہی لڑکی پسند ہے جو خدا اور اس کے رسول کی ایسی فرمانبردار ہے۔تو دیکھو کس طرح اہل عرب کے قلوب کو بظاہر دنیوی عزتیں قربان کرنے کے لئے رسول کریم صلی اللہ روم نے تیار کر دیا کہ ان کے مد نظر سوائے اس کے اور کوئی بات نہ رہی کہ خدا اور اس کے رسول کا کیا حکم ہے؟ تو قلوب کو دنیا کی کوئی حکومت نہیں بدل سکتی۔قلوب کو اللہ تعالیٰ ہی بدلتا ہے۔بزدل بہادر بن جاتے ہیں خدا کے حکم کے ماتحت اور بہادر بزدل بن جاتے ہیں خدا کے حکم کے ماتحت، کنجوس سخی بن جاتے ہیں خدا کے حکم کے ماتحت اور سخی کنجوس بن جاتے ہیں خدا کے حکم کے ماتحت ، جاہل عالم بن جاتے ہیں خدا کے حکم کے ماتحت اور عالم جاہل بن جاتے ہیں خدا کے حکم کے ماتحت۔جب خدا کسی قوم کے متعلق حکم دیتا ہے کہ اس کو مٹاڈالو تو اس کے عالم جاہل ہو جاتے ہیں، اس کے بہادر بزدل ہو جاتے ہیں، اس کے سخی کنجوس ہو جاتے ہیں اور اس کے طاقتور کمزور ہو جاتے ہیں۔مگر جب خدا کسی قوم کے متعلق فیصلہ کرتا ہے کہ اسے بڑھایا جائے تو اس کے کمزور بہادر بن جاتے ہیں، اس کے جاہل عالم بن جاتے ہیں، اس کے بھیل سخی بن جاتے ہیں اور اس کے بیوقوف عقلمند بن جاتے ہیں۔ہم نے اپنی زندگیوں میں اس قسم کی کئی مثالیں دیکھی ہیں۔صحابہ کی مثالیں تو ظاہر ہی ہیں۔احمدیوں میں بھی ہم نے دیکھا ہے کہ ایک شخص اخلاص کے ساتھ احمدی ہوتا ہے وہ ان پڑھ اور جاہل ہوتا ہے مگر احمد ی ہوتے ہی اس کی زبان اس طرح کھل جاتی ہے کہ بڑے بڑے مولوی اس کے ساتھ بات کرنے سے گھبرانے اور کترانے لگ جاتے ہیں۔مگر ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ بعض علم والے آدمی ہماری جماعت میں داخل ہوتے ہیں مگر چونکہ اُن کے دلوں میں احمدیت کے متعلق اخلاص نہیں ہوتا اس لئے وہ اسی طرح جاہل رہتے ہیں جس طرح غیر احمدی