خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 82

* 1942 82 خطبات محمود میں جو شخص گھوڑے پر سوار ہے اور سر سے پیر تک مسلح ہے اور جس کے آگے دوجر نیل ننگی تلواریں لے کر پہرہ دے رہیں وہ ابو جہل ہے۔اس وقت ابو جہل کے سامنے ایک تو عکرمہ ننگی تلوار لے کر پہرہ دے رہا تھا اور ایک اور مشہور جرنیل تھا جس کا نام اس وقت یاد نہیں۔عکرمہ جیسے بہادر سپاہی نے بعد میں اسلام لا کر جو قربانیاں کی ہیں اور جس طرح دشمنوں کی صفوں کو چیرا ہے وہ بتاتا ہے کہ عکرمہ کوئی معمولی انسان نہیں تھا بلکہ اس وقت دنیا کے بہترین سپاہیوں میں سے تھا اور وہ دونوں اُس وقت ننگی تلواریں لے کر ابو جہل کے سامنے کھڑے تھے۔غرض عبد الرحمان بن عوف کہتے ہیں میں نے انگلی اٹھا کر انہیں بتایا کہ ابو جہل کونسا ہے اور میری غرض یہ تھی کہ انہیں معلوم ہو جائے ان کا خیال کیسا نا ممکن ہے۔مگر وہ کہتے ہیں ابھی میری انگلی نیچے نہیں آئی تھی کہ جس طرح باز چڑیا پر حملہ کرتا ہے اسی طرح انہوں نے یکدم حملہ کر دیا اور پیشتر اس کے کہ کفار کے لشکر کو ہوش آئے کہ یہ ہو کیا گیا ہے انہوں نے ابو جہل کو زخمی کر کے نیچے گرا دیا۔اس دوران میں ایک کا ہاتھ کٹ گیا تو وہ کٹے ہوئے ہاتھ کو الگ پھینک کر پھر آگے بڑھا اور دونوں نے ابو جہل کو زخمی کر کے نیچے گرا دیا اور اس طرح کفار کی طرف سے اس دن بدر کی لڑائی بے جرنیل کے لڑی گئی۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں جب لڑائی ختم ہو گئی تو میں یہ دیکھنے کے لئے میدان جنگ میں گیا کہ ابو جہل کا کیا بنا ہے ؟ میں نے دیکھا کہ وہ زخموں کی تکلیف کی وجہ سے کراہ رہا ہے۔میں نے اس سے کہا سناؤ کیا حال ہے؟ وہ کہنے لگا میں اب مرنے والا ہوں مگر مجھے اپنی موت کا کوئی افسوس نہیں کیونکہ سپاہی موت سے نہیں ڈرا کرتا۔مجھے حسرت ہے تو یہ ہے کہ مدینہ کے دو لڑکوں نے مجھے مارا ہے۔اب تو مجھے دیکھنے کے لئے آیا ہے تو سکتے کا آدمی ہے اور تو جانتا ہے کہ میں اپنی قوم میں کیسا معزز ہوں۔میں اب زخموں کی تکلیف کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر سکتا تو تلوار لے کر میری گردن کاٹ دے مگر دیکھنا میری گردن ذرا لمبی کائنا کیونکہ تجھے معلوم ہے کہ میں اپنی قوم کا سردار ہوں۔سر کے پاس سے میری گردن کاٹی گئی تو اس میں میری ذلت ہو گی۔دھڑ کے پاس سے میری گردن لمبی رکھ کر کاٹنا تا کہ میری سر داری کا نشان قائم رہے۔عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں میں نے اسے کہا یہ تیری آخری خوشی بھی میں