خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 79

* 1942 79 خطبات محمود یہ حالت تھی کہ وہ اپنے آپ کو پاگل ہی بنا بیٹھے تھے محمد صلی لی کم کی اطاعت میں کیونکہ وہ سمجھتے تھے محمد صلی الی ایم کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے۔پھر مدینہ کے لوگ لڑائی کے کام میں نہایت ادنی اور ذلیل سمجھے جاتے تھے جیسے ہمارے ملک میں بعض قومیں لڑائی کے فن کی اہل نہیں سمجھی جاتیں۔اسی طرح مدینہ کے لوگوں کو لڑائی کے قابل نہیں سمجھا جاتا تھا۔مدینہ کے لوگ بے شک مالدار تھے اور وہ اچھے زمیندار تھے مگر جیسے ہمارے ملک میں بعض قو میں بعض پیشوں کی وجہ سے ذلیل سمجھی جاتی ہیں۔اسی طرح وہ ذلیل سمجھے جاتے تھے کیونکہ وہ کھیتی باڑی کیا کرتے تھے اور کھیتی باڑی کو عرب لوگ پسند نہیں کرتے تھے۔عرب لوگ اس بات پر ناز کرتے تھے کہ ان کے پاس اتنے گھوڑے ہیں، اتنے اونٹ ہیں، وہ اس طرح ڈا کہ مارتے ہیں اور اس اس طرح لوگوں پر حملے کرتے ہیں مگر مدینہ کے لوگ ایک گاؤں میں بستے اور کھیتی باڑی کیا کرتے تھے۔وہ نہ ڈا کہ مارتے تھے، نہ اونٹ اور گھوڑے کثرت سے رکھ سکتے تھے کیونکہ اگر وہ اونٹ اور گھوڑے رکھتے تو انہیں کھلاتے کہاں سے۔اس لئے وہ دوسرے عربوں کی نگاہ میں نسبتاً ادنی سمجھے جاتے تھے اور عرب کے لوگ تو ان کے متعلق کہا کرتے تھے کہ وہ تو سبزی ترکاری بونے والے ہیں اور در حقیقت وہ تھے بھی ایسی ہی حالت میں۔اس میں کیا شبہ ہے کہ جو لوگ ترقہ میں پڑ جائیں، باغات بنائیں، کھیتی باڑی میں مشغول ہو جائیں اور مال و دولت جمع کرنے میں لگ جائیں انہوں نے کیالڑنا ہے اور وہ تو کئی پشتوں سے نسلاً بعد نسل یہی کام کرتے چلے آرہے تھے۔اس لئے وہ لڑائی کے قابل نہیں سمجھے جاتے تھے۔آپس میں بے شک بعض دفعہ لڑ پڑتے تھے مگر آپس میں لڑنا اور بات ہے اور لڑائی کے میدان میں جا کر لڑنا اور بات ہے۔ہمارے ملک میں کشمیری لڑائی کے قابل نہیں سمجھے جاتے مگر آپس میں وہ بھی لڑتے ہیں چنانچہ میں نے کشمیر میں ہانجیوں کو دیکھا ہے کہ جب وہ آپس میں لڑتے ہیں تو کسی نے چاول گوٹنے کا موصل اٹھایا ہوا ہوتا ہے، کوئی لوٹا اٹھا کر دوسرے کو مارنے کے لئے دوڑتا ہے اور کوئی تھالی کسی کے سر پر دے مارتا ہے۔نہ سہی تلوار ، نہ سہی بندوق مگر لوٹے، ڈنڈے اور تھالیاں تو ان کے پاس ہوتی ہیں۔وہ انہی کو اٹھا کر ایک دوسرے سے لڑنے لگ جاتے ہیں۔تو بے شک مدینہ کے لوگوں میں بھی لڑائی