خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 74

* 1942 74 خطبات محمود یا ایک جنگل میں گزرنے والا شخص جس پر بھیڑ یا یا شیر اچانک جھپٹ کر حملہ کر دیتا ہے وہ چاہے بادشاہ کا کتنا ہی مُنہ چڑھا ہو یا بادشاہ کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو بادشاہ اس کے کیا کام آسکتا ہے۔یا طبیب جو اس کا علاج کرتا تھا وہ اس کے کیا کام آسکتا ہے۔یا امیر جو نئے کپڑے سلا دیتا تھا وہ اس کے کیا کام آسکتا ہے۔یا وکیل جس نے رحم کر کے اس کا مقدمہ لے لیا تھا اس کے کس کام آسکتا ہے۔جنگل میں وہ تن تنہا جارہا ہوتا ہے کہ شیر چیتا یا بھیڑیا اس کے سامنے آجاتا ہے۔ایسی حالت میں وہاں اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو کام آتی ہے کوئی انسان کام نہیں آسکتا۔تو جب تک انسان کے اندر یہ یقین پیدا نہ ہو کہ ہر قسم کے اضطرار کی حالت میں اللہ تعالیٰ ہی کام آتا ہے اس وقت تک وہ مضطر نہیں کہلا سکتا۔مثلاً آجکل لڑائی ہو رہی ہے۔اب یہ بھی ایک اضطرار کی حالت ہے۔ہمارا ملک سینکڑوں سال سے بندوق اور تلوار چلانے کے فن سے نا آشنا ہے اور یہاں کے رہنے والے اس بات سے بالکل ناواقف ہیں کہ دشمن کا مقابلہ کس طرح کیا جاتا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ کانگرس والے تعلی کرتے ہیں کہ ہم سب کچھ کر سکتے ہیں۔مگر یہ محض ایک لاف ہے جس کے اندر کوئی حقیقت نہیں۔جو قومیں بہت کچھ کر سکتی تھیں ان میں سے بھی کئی اس جنگ میں مقابلہ کر کے دب گئی ہیں مثلاً فرانس کی بہت بڑی طاقت تھی مگر جرمنی کے مقابلہ میں بالکل دب گئی۔تو دعوی کرنا اور بات ہے اور عملی رنگ میں کچھ کر کے دکھانا اور بات ہے۔یوں منہ سے کانگرسی کہتے رہتے ہیں کہ ہندوستان کو آزاد کر دیا جائے ہم خود دفاع کا انتظام کر لیں گے مگر یہ بالکل ناممکن بات ہے کہ وہ آزاد ہو کر اپنی حفاظت کا خود سامان کر سکیں۔وہ جو نہی آزاد ہوئے فوراً انگریزوں سے مطالبہ کریں گے کہ تم ہم کو توپ خانہ بھیجو۔تم ہم کو ہوائی جہاز بھیجو، تم ہم کو ٹینک بھیجو۔گویا پھر بھی انگریزوں کے ہی محتاج رہیں گے۔زیادہ سے زیادہ کا نگرسی یہ کر سکتے ہیں کہ چندے دے دیں یا زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ چند کا نگرسی دھواں دھار تقریریں کر دیں کہ اٹھو اور دشمن کا مقابلہ کرو۔مگر ان میں ہمت کہاں سے آئے گی اور بہادری کی روح ان میں کس طرح پیدا ہو گی پھر اس خطرہ کی حالت میں انگریز بھی صرف ٹینک دے سکتے ہیں، ہوائی جہاز دے سکتے ہیں، توپ خانہ دے سکتے ہیں، فوجیں دے سکتے ہیں مگر خالی ٹینکوں ، ہوائی جہازوں اور فوجوں سے فتح حاصل کرنا نا ممکن ہوتا ہے۔فتح دلوں کی