خطبات محمود (جلد 23) — Page 72
خطبات محمود 72 * 1942 اضطرار دنیا میں کئی قسم کے ہوتے ہیں۔اسی لئے یہاں المُضْطَر کا لفظ رکھا گیا ہے۔جس کے معنے تمام قسم کے مضطر کے ہیں۔بعض بندے دنیا میں ایسے ہوتے ہیں جو مضطر ہوتے ہیں اور گو حقیقتا اللہ تعالیٰ ہی ہر مضطر کا علاج ہے مگر اس کے دیئے ہوئے انعام کے ماتحت کوئی بندہ بھی ان کے اضطرار کو بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔چنانچہ بعض دفعہ ایک آدمی سخت غریب ہوتا ہے اس کے کپڑے پھٹ جاتے ہیں اور اسے نظر نہیں آتا کہ وہ نئے کپڑے کہاں سے بنواۓ۔ایک امیر آدمی جو بعض دفعہ ہندو ہو تا ہے، بعض دفعہ سکھ ہوتا ہے، بعض دفعہ پارسی ہوتا ہے بعض دفعہ جینی یا بت پرست ہوتا ہے اسے دیکھتا ہے اور کہتا ہے تمہارے کپڑے پھٹ گئے ہیں آؤ میں تمہیں نیا جوڑا بنوا دوں اب گو ہمارے یقین کے مطابق خدا نے ہی اس امیر آدمی کے دل میں یہ تحریک پیدا کی ہو گی کہ وہ اسے کپڑے بنوادے مگر جو کامل الایمان نہیں ہو تاوہ سمجھتا ہے کہ میرے اضطرار کی حالت میں فلاں آدمی کام آیا ہے مگر وہی آدمی جس نے اسے کپڑوں کا جوڑا بنا کر دیا تھا جب یہ ایسی بیماری میں مبتلا ہو تا ہے کہ اس کے لئے کھانا اور پینا حرام ہو جاتا ہے۔پانی تک اسے ہضم نہیں ہو تا۔تمام جسم کی صحت کی حالت خراب ہو جاتی ہے اور چل پھر بھی نہیں سکتا تو ایسی حالت میں وہ امیر آدمی اس کی مدد نہیں کر سکتا بلکہ اگر کوئی طبیب اچھالا ئق اور رحمدل ہوتا ہے اور وہ اسے اس حالت میں دیکھتا ہے تو کہتا ہے تمہیں علاج پر روپیہ خرچ کرنے کی توفیق نہیں میں تمہیں مفت دوائی دینے کے لئے تیار ہوں۔تم میرے پاس رہو اور اپنے مرض کا علاج کراؤ۔اب اس اضطرار کی حالت میں امیر اس کے کام نہیں آیا بلکہ طبیب اس کے کام آیا۔جب وہ کپڑوں کے لئے مضطر تھا تو امیر آدمی اس کے کام آگیا مگر جب وہ علاج کے لئے مضطر ہوا تو ایک طبیب اس کے کام آ گیا۔پھر کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اس پر کوئی مقدمہ بن جاتا ہے۔وہ بے گناہ ہوتا ہے اس کا دشمن زبر دست ہو تا ہے اور وہ کسی وجہ سے ناراض ہو کر اسے کسی مقدمہ میں ماخوذ کرا کے عدالت تک پہنچاتا ہے۔اب اسے نہ وکیل کرنے کی توفیق ہے، نہ خود اسے مقدمہ لڑنے کی قابلیت ہے اور وہ حیران ہوتا ہے کہ کیا کرے۔آخر کوئی رحمدل وکیل اسے مل جاتا ہے اور وہ کہتا ہے میں بغیر فیس کے تمہاری وکالت کرنے کے لئے تیار ہوں۔اب ایسے موقع پر نہ امیر اس کے کام آسکا نہ طبیب اس کی مشکل کو