خطبات محمود (جلد 23) — Page 61
1942ء 61 خطبات محمود لوگ ان سے سودا خریدتے رہے اور انہیں آنہ دو آنے زیادہ دیتے رہے۔ محض اس لئے کہ وہ احمدی ہیں۔ انہیں ہندوؤں سے سستا سودا مل سکتا تھا مگر انہوں نے نہ لیا اور یہی کہا کہ ہم احمدی دکاندار سے سودالیں گے۔ پس 22 سال انہوں نے احمدی لوگوں سے فائدہ اٹھایا مگر جب ایک سال ان پر تنگی کا آیا تو ان میں سے بعض نے غلے دبا لئے۔ اس قسم کا انسان میرے نزدیک ہر گز احمدی نہیں کہلا سکتا اور اللہ تعالیٰ نے جب تک مجھ کو توفیق دی۔ ایسے آدمی جماعت کے ساتھ ہر گز نہیں رہیں گے۔ میرے نزدیک تو اس قسم کا انسان انسان کہلانے کا بھی مستحق نہیں۔ کجا یہ کہ اسے احمدی سمجھا جائے۔ یہ دن تو ایسے خطرہ کے ہیں کہ جن کے پاس تھوڑا بہت غلہ ہے۔ انہیں بھی لے آنا چاہئے تھا اور کہنا چاہئے تھا کہ آؤ ہم سارے مل جائیں۔ رسول کریم صلی علیه ریم کے زمانہ میں اس قسم کے واقعات نظر آتے ہیں۔ ایک موقع پر کھانے کی کمی ہو گئی تو آپ نے فرمایا جس کے پاس جو کچھ ہے لے آئے۔ چنانچہ جس کے پاس جو کچھ تھا، لے آیا اور آپ رابر بانٹ دیا۔ 2 میرے نزدیک ہم جماعت کے فرد کبھی کہلا ہی نہیں سکتے جب تک زندگی اور موت میں ہم سب اکٹھے نہ ہوں۔ آرام کی حالت میں بے شک مختلف اموال مختلف افراد کی ملکیت ہوتے ہیں۔ کچھ مال زید کا ہوتا ہے، کچھ بکر کا ہوتا ہے ، کچھ خالد کا ہوتا ہے مگر مصیبت کے وقت سارا مال قوم کا ہوتا ہے اور لو رلوگوں کا فرض ہوتا ہے کہ سب اکٹھے ہو کر کھائیں۔ پھر چاہے ذخیرہ ختم ہو جانے کے بعد سارے ہی مر جائیں۔ پس اگر کسی دکاندار نے ایسا کیا ہے تو ہم پورا زور لگا کر اس کی تحقیقات کریں گے اور اسے جماعت میں نہیں رہنے دیں گے۔ اسی طرح ایسے شخص کو قادیان میں بھی رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ہاں اگر وہ مرتد ہو کر احراریوں سے مل جائے تو اور بات ہے جماعتی فرد ہونے کے لحاظ سے وہ قادیان میں نہیں رہ سکے گا۔ نے سب میں برابر میں باہر کی جماعتوں کو اس امر کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں کہ جیسا کہ جلسہ سالانہ کے موقع پر میں نے کہا تھا خطرات کے وقت دوستوں کو مرکز میں جمع ہونے کی کوشش کرنی چاہئے۔ میں نے کہا تھا کہ جو دوست قادیان آسکیں وہ قادیان آ جائیں اور جو نہ آسکیں وہ ضلع کے کسی مقام پر جہاں جماعت زیادہ ہو یا جہاں احمدی مالک ہوں جمع ہو جائیں۔ میری اس تحریک پر