خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 586 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 586

* 1942 586 خطبات محمود ہی ہو گا۔ایک دفعہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سٹیشن پر گئے تو انہیں کوئی مہمان نہ ملا اور کبھی کبھی ایسا ہو جایا کرتا تھا کہ کوئی مہمان نہیں آتا تھا۔انہیں جب اور کوئی شخص نہ ملا تو اتفاقاً انہوں نے پیراں دتے کو دیکھ لیا۔یہ ایک فاتر العقل شخص تھا اور گنٹھیا کی وجہ سے اس کا سارا جسم مارا گیا تھا۔اس کے رشتہ داروں کو بعض لوگوں نے بتایا کہ تم اسے قادیان لے جاؤ وہاں مرزا صاحب اس کا مفت علاج کر دیں گے اور اس کی خبر گیری بھی کریں گے چنانچہ اس کے رشتہ دار اسے یہاں چھوڑ کر چلے گئے۔وہ بالکل وحشی اور اجڈ تھا۔بعض دفعہ مٹی کے تیل کی بوتل پی جایا کرتا تھا۔لوگ اسے چار آنے دیتے تو وہ مٹی کے تیل کی بوتل منہ لگا کر پی جاتا یا دال میں ڈال کر کھالیتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا علاج کیا اور وہ اچھا ہو گیا۔اس احسان کا اس کی طبیعت پر ایسا اثر ہوا کہ پھر وہ قادیان چھوڑ کر نہیں گیا۔اس کے رشتہ داروں کو جب معلوم ہوا کہ پیرا اچھا ہو گیا ہے تو وہ اسے واپس لے جانے کے لئے آئے اور چاہا کہ وہ پھر زمیندارہ کام میں ان کا ہاتھ بٹائے مگر اس نے واپس جانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ تم مجھے چھوڑ کر چلے گئے تھے میں تمہارے ساتھ نہیں جا سکتا۔بے شک تم میرے رشتہ دار ہو مگر اب میرے رشتہ دار وہی ہیں جنہوں نے میر ا علاج کیا۔چنانچہ وہ یہیں رہا اور یہیں فوت ہوا۔اسے اسلام اور احمدیت کی کوئی سمجھ نہیں تھی۔نماز وہ نہیں پڑھتا تھا اور اگر نماز اسے یاد کرائی جاتی تھی تو وہ اسے یاد نہیں ہوتی تھی۔بہت دفعہ ایسا ہوا کہ اسے نماز کا کوئی سبق دیا گیا مگر دو دو تین تین مہینہ کے بعد جب اسے کہا جاتا کہ نماز سناؤ تو وہ کہہ دیتا کہ آندی تے سی پر بھل گئی ہے۔یعنی آتی تو تھی مگر بھول گئی ہے۔حضرت خلیفہ اول نے ایک دفعہ اس کے لئے انعام مقرر کیا اور فرمایا پیرے! اگر تم ایک دن پانچوں نمازیں وقت پر پڑھ لو تو تمہیں دو روپے انعام دوں گا۔اس نے شاید عشاء کی نماز شروع کی اور جوں توں کر کے چار نمازیں پڑھ لیں۔آخری نماز اس کی مغرب کی تھی۔وہ مغرب کی فرض نماز میں شامل ہوا۔ان دنوں مہمانوں کا کھانا ہمارے گھر میں تیار ہوا کرتا تھا۔مغرب کی نماز میں اندر سے اس عورت نے جو کھانا لایا کرتی تھی زور سے پیرے کو آوازیں دینی شروع کر دیں کہ پیرے کھانا تیار ہے۔مہمانوں کے لئے لے جا۔اس وقت نماز ہو رہی تھی اور پیرا بھی جماعت میں شامل تھا۔آخری تشہد میں تھا جب اس عورت