خطبات محمود (جلد 23) — Page 585
* 1942 585 خطبات محمود کی لاہور کے اندر کسی نے دعوت کی اور آپ اس میں شامل ہونے کے لئے تشریف لے گئے۔کچھ اثر میرے دل پر یہ بھی ہے کہ دعوت نہیں تھی بلکہ مفتی محمد صادق صاحب یا ان کا کوئی بچہ بیمار تھا اور آپ انہیں دیکھنے کے لئے تشریف لے گئے تھے۔بہر حال شہر کے اندر سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام واپس آرہے تھے کہ سنہری مسجد کی سیڑھیوں کے پاس میں نے ایک بہت بڑا ہجوم دیکھا جو گالیاں دے رہا تھا اور ایک شخص ان کے درمیان کھڑا تھا۔ممکن ہے وہ کوئی مولوی ہو اور جیسے مولویوں کی عادت ہوتی ہے وہ شاید اپنی طرف سے بے موقع چیلنج دے رہا ہو۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی گاڑی پاس سے گزری تو ہجوم کے کر میں نے سمجھا کہ یہ بھی کوئی میلہ ہے۔چنانچہ میں نے نظارہ دیکھنے کے لئے گاڑی سے اپنا سر باہر نکالا۔اس وقت کا یہ واقعہ مجھے آج تک نہیں بھولا کہ میں نے دیکھا۔ایک شخص جس کا ہاتھ کٹا ہوا تھا اور جس پر ہلدی کی پٹیاں بندھی ہوئی تھیں وہ بڑے جوش سے اپنے ٹنڈے ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مار مار کر کہتا جا رہا تھا ”مرزا دوڑ گیا، مرزا دوڑ گیا۔“ اب دیکھو ایک شخص زخمی ہے، اس کے ہاتھ پر پٹیاں بندھی ہوئی ہیں مگر وہ بھی مخالفت کے جوش میں یہ سمجھتا ہے کہ میں اپنے ٹنڈے ہاتھ سے ہی نَعُوذُ بِالله احمدیت کو دفن کر آؤں گا۔یہ کیسی خطرناک دشمنی ہے جو لوگوں کے قلوب میں پائی جاتی ہے اور کس کس طرح انہوں نے زور لگایا کہ لوگ قادیان میں نہ آئیں اور احمدیت کو قبول نہ کریں۔ایسے کئی لوگ احمدیوں میں موجود ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں قادیان آنے کے ارادہ سے بٹالہ تک آئے مگر پھر ان کو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے واپس کر دیا۔چنانچہ میں نے سنا ہے کہ مولوی عبد الماجد صاحب بھاگلپوری بھی اسی لئے شروع میں احمدیت قبول کرنے سے محروم رہے کہ جب وہ بٹالہ میں آئے تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے ان کو ورغلا کر واپس کر دیا اور یہی مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا روزانہ کا مشغلہ رہتا تھا۔وہ ہر روز ریل پر جا پہنچتے اور جب بعض لوگ قادیان جانے کے ارادہ سے اترتے تو وہ انہیں کہتے کہ وہاں جا کر کیا لو گے ، وہاں گئے تو ایمان خراب ہو جائے گا اور کئی لوگ انہیں عالم سمجھ کر واپس چلے جاتے اور خیال کرتے کہ مولوی محمد حسین صاحب جو کچھ کہہ رہے ہیں یہ سچ