خطبات محمود (جلد 23) — Page 574
* 1942 574 خطبات محمود علاقوں میں لے جاتے ہیں یا کیا وہ قیاس بھی کر سکتا ہے کہ لوگ آئیں گے۔درخت کے مالک کی منتیں کریں گے اور کہیں گے ذرا ہمیں بھی اس کا پیوند لگا لینے دو تاکہ ہم بھی اپنے علاقہ میں اس کا نمونہ قائم کر سکیں۔یہی حال محمد صلی یکم کی ترقی اور آپ کی عزت و عظمت کا ہے۔حق یہ ہے کہ محمد صلی ال نیلم کے صحابہ نے بھی آپ کی ترقی کا وہ نقشہ نہیں دیکھا جو ہمیں نظر آرہا ہے اس لئے کہ ان کے زمانہ میں ابھی اسلامی طاقت کمزور تھی بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ اسلامی ترقی کے زمانہ میں بھی محمد رسول اللہ صلی اللی علم کی فتوحات کا وہ نقشہ نظر نہیں آسکتا تھا جو آج اس تنزل کے زمانہ میں نظر آرہا ہے کیونکہ لوگ اس وقت سمجھتے تھے یہ ترقی کی ایک رو ہے جو جاری ہو گئی ہے۔ممکن ہے یہ رو کچھ عرصہ کے بعد مٹ جائے اور ترقی جاتی رہے۔دنیا میں بڑے بڑے سیلاب آئے ہیں جو گاؤں کے گاؤں بہا کر لے جاتے ہیں مگر کچھ عرصہ کے بعد لوگ بالکل بھول جاتے ہیں کہ کبھی کوئی سیلاب بھی آیا تھا لیکن اگر کوئی ایسا سیلاب آئے جو ملک کو ایسا بر باد کر دے کہ اس کی نظیر پہلے کئی سو سال میں نہ ملتی ہو تو سینکڑوں سال تک لوگ اس کو یاد رکھتے ہیں اور کہتے ہیں وہ تباہی بہت بڑی تباہی تھی۔اس طرح درخت پھل دیتے ہیں مگر کچھ عرصہ کے بعد وہ پھل دینے سے رہ جاتے ہیں۔کھیتیاں غلہ پیدا کرتی ہیں مگر ایک عرصہ کے بعد ناکارہ ہو جاتی ہیں لیکن بعض ایسے درخت بھی ہوتے ہیں جو سو سو دو دو سو سال تک پھل دیتے چلے جاتے ہیں۔پیوندی آم ہوں تو پچاس ساٹھ سال تک پھل دیتے ہیں اور اگر کوئی تخمی آم کے درخت ہوں تو وہ سو دو سو سال تک پھل دیتے ہیں لیکن اگر کوئی ایسا آم کا درخت ہو جو دو ہزار سال تک پھل دیتا چلا جائے تو تم سمجھ سکتے ہو کہ کتنی دور دور سے لوگ اس کو دیکھنے کے لئے آئیں گے اور اس کے پھل کو استعمال کر کے کیسا لطف اٹھائیں گے۔اسی طرح اسلامی ترقی کے زمانہ میں لوگ کہہ سکتے تھے کہ طبعی طور پر یہ ایک رو جاری ہے۔رسول کریم ملی ایم نے چونکہ دعویٰ کیا ہے کہ میں خَاتَمُ النَّبِيِّين ہوں اور قیامت تک میرا زمانہ رہے گا۔اس لئے لوگ آپ کو قبول کر رہے ہیں۔ضروری نہیں کہ یہ رو ہمیشہ جاری رہے۔پس بے شک ان لوگوں نے بھی محمد صلی اینیم کی عظمت و شان کے زمانہ کو دیکھا۔مگر حق یہ ہے کہ محمدصلی الیکم کی عظمت اور شان جو آج ہمیں نظر آرہی ہے اس کا اندازہ اور قیاس بھی پہلے لوگ نہیں کر سکتے تھے۔اس وقت کون کہہ سکتا تھا 6**