خطبات محمود (جلد 23) — Page 558
1942ء 558 خطبات محمود صا الله ابو بکر اور عمر کا دل ہی تھا جو زیادہ سے زیادہ قربانیوں پر : پر تیار رہتا تھا اور جب بھی رسول کریم صلی الی روم علیدوم کوئی تحریک فرماتے وہ کوشش کرتے کہ قربانیوں میں دوسروں سے بڑھ کر رہیں۔ ایک دفعہ رسول کریم صلی علیم نے ایک بڑی بھاری تحریک فرمائی۔ حضرت عمرؓ نے فیصلہ کیا کہ میں آج سب سے بڑھ کر قربانی کروں گا چنانچہ وہ اپنے گھر میں آئے اور اپنا آدھا مال اٹھا کر رسول کریم صلی العلی میم کی مجلس میں پہنچے۔ وہ دل میں یہ خیال کرتے جارہے تھے کہ کوئی اپنے مال کا بیسواں حصہ لائے گا، کوئی دسواں حصہ لائے گا، کوئی پانچواں حصہ لائے گا مگر میں تو اپنا آدھا مال لے آیا ہوں اور کسی نے میرے برابر کیا قربانی کرنی ہے۔ جب وہ مال سے لدھے پھندے اور بوجھ سے دبے رسول کریم صلی علیم کی مجلس میں پہنچے تو دیکھا کہ حضرت ابو بکر پہلے ہی پہنچے ہوئے ہیں۔ ان کے دل میں یہ بھی خیال تھا کہ میں سب سے پہلے بھی پہنچوں اور قربانی بھی میری ہی سب سے زیادہ ہو۔ جب انہوں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو پہلے پہنچا ہوادیکھا تو کہنے لگے۔ آج بھی یہ بڑھا سبقت لے گیا مگر خیر قربانی میں تو میرا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔ جب وہ اور زیادہ قریب پہنچے تو انہوں نے سنار سول کریم صلی علیه ملی علوم ریم حضرت ابو ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے تھے کہ رض صا ابو بکر تم سب کچھ لے آئے۔ گھر میں کیا چھوڑا اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ حضور اللہ اور رسول کا نام چھوڑا ہے۔ اس وقت حضرت عمرؓ کو معلوم ہوا کہ وہ جو سمجھتے تھے کہ آج میں قربانی میں سب سے بڑھ جاؤں گا۔ ان کا یہ خیال درست نہ نکلا اور آج بھی ابو بکر سب سے بڑھ گیا۔ 1 تو دلوں کے بدلنے سے ہی سب قربانیاں ہوتی ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ دل نہ بدلے تو کوئی قربانی نہیں ہو سکتی۔ ہماری جماعت کو ہی دیکھ لو چونکہ ہماری جماعت کے دل بدلے ہوئے ہیں اس لئے باوجود اس کے کہ ہماری جماعت چھوٹی سی ہے قربانیوں کے میدان میں وہ دوسروں سے بہت بڑھی ہوئی ہے۔ اس کے مقابلہ میں مسلمانوں میں آج اس گری ہوئی حالت میں بھی ایسے ایسے مالدار موجود ہیں کہ ہماری ساری جماعت کی جائدادیں ان میں سے اگر صرف ایک شخص خرید نا چاہے تو خرید سکتا ہے مگر باوجود اس قدر مالدار ہونے کے انہیں اسلام کے لئے اتنا چندہ دینے کی توفیق نہیں ملتی جتنی ان کے نوکروں کے نوکروں سے بھی کم حیثیت