خطبات محمود (جلد 23) — Page 55
خطبات محمود 55 * 1942 پس میں نہیں سمجھتا کہ ان کے لئے غلہ لے جانا ہمارے لئے مضر کس طرح ہو گیا۔کئی لاکھ سپاہی اس وقت ہندوستان سے باہر ہیں۔اگر وہ باہر نہ ہوتے تو یہاں بھی انہیں غلہ کی ضرورت پیش آتی اور اس صورت میں بھی گندم ان کے لئے اتنی ہی خرچ ہوتی، جتنی اب ان کے لئے بھجوائی گئی ہے لیکن بہر حال وہ حکومت جو دیر سے قائم ہوتی ہے ایسے معاملات میں عموماً احتیاط سے کام لیتی ہے مگر نئی حکومتیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کرتیں ، ان کے مد نظر صرف ایک ہی بات ہوتی ہے اور وہ یہ کہ ان کے آدمیوں اور ان کے ملک کو فائدہ پہنچے۔وہ یہ نہیں دیکھتے کہ مفتوح ملک کے لوگوں کا کیا حال ہے بلکہ وہ اپنے آرام اور اپنی آسائش اور اپنے ملک کے لوگوں کی ترقی کا خیال رکھتے ہیں اور جو کچھ انہیں ملتا ہے لوٹ لیتے ہیں۔ان حالات کے نتیجہ میں جو تکلیف نئی آنے والی حکومت سے پہنچی ہے وہ پرانی قائم شدہ حکومت سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔پھر لڑائی میں گولہ باری ہوتی ہے۔کیا تم سمجھتے ہو اگر ہمارے ملک میں بھی لڑائی آجائے تو شہروں اور دیہات کی وجہ سے حکومت تو پیں چلانا چھوڑ دے گی۔ایسے موقع پر یہ قطعاً نہیں دیکھا جاتا کہ گولوں کی زد میں کوئی شہر آرہا ہے یا گاؤں۔اصل مقصد سامنے یہ رکھا جاتا ہے کہ لڑائی میں فتح ہو اور اگر فوجی ضرورت کے باوجود گولہ باری نہ کی جائے تو یہ بہت بڑی غداری ہوتی ہے۔دہلی کی بادشاہت کا تختہ الٹنے میں بہت بڑا دخل اسی غداری کا تھا۔شاہی قلعہ میں ایک ایسی جگہ توپ لگی ہوئی تھی جس کی زد عین انگریزی فوج پر پڑتی تھی مگر انگریزی جرنیل بڑا ہو شیار تھا۔اس نے فوراً بادشاہ کی بیگم 1 کو رشوت دی اور اسے کہلا بھیجا کہ تمہارے بیٹے کو بادشاہ بنا دیا جائے گا تم کسی طرح توپ نہ چلنے دو۔بادشاہ کو وہ بیوی بڑی پیاری تھی۔جب سپاہیوں نے زور دیا کہ قلعہ شاہی سے توپ چلائی جائے ورنہ فتح کی کوئی امید نہیں تو اس نے توپ چلانے کی اجازت دے دی مگر ابھی ایک گولہ ہی چلا تھا کہ بیگم نے اپنا دل پکڑ لیا اور شور مچانے لگ گئی کہ ہائے میں مرگئی ، ہائے میں مر گئی۔آخر مجبورآبادشاہ کو حکم دینا پڑا کہ توپ نہ چلائی جائے۔نتیجہ یہ ہوا کہ بادشاہ قید ہو گیا، شہزادے قتل ہو گئے اور جس لڑکے کے متعلق کہا گیا تھا کہ اسے بادشاہ بنا دیا جائے گا وہ بھی مارا گیا یا قید ہو گیا۔تو جس وقت لڑائی ہوتی ہے