خطبات محمود (جلد 23) — Page 540
1942ء 540 خطبات محمود جنہوں نے اپنے معیار سے کم قربانیاں کی ہیں۔ پس وہ لوگ جنہوں نے ابھی تک نمایاں قربانی نہیں کی میں ان سب سے کہتا ہوں کہ سفر اب خاتمہ کے قریب ہے، منزل نظر آرہی ہے ، اگلا سال تحریک جدید کا آخری سال ہو گا۔ پس تمہیں کنارے پر پہنچ کر اپنا سارا زور لگا دینا چاہئے تا کہ اللہ تعالی اس تحریک کے ذریعہ اسلام اور سلسلہ کے مفاد کے لئے ایک ایسی مستقل بنیاد قائم کر دے جو آئندہ آنے والے دنوں میں اسلام اور شیطان کی جنگ میں ایک مفید اور بابرکت عنصر ثابت ہو۔ اسی غرض کے لئے آج میں خود چل کر آیا ہوں، باوجود اس کے کہ بیماری کی حالت میں نکلنا میرے لئے مشکل تھا اور باوجود اس کے کہ لکڑی کے سہارے بھی اگر چلنے کی کوشش کروں تو درد عود کر آتا ہے اور باوجود اس کے کہ کرسی پر بیٹھ کر اور لوگوں کے کندھوں پر سوار ہو کر آنا میری طبیعت کے خلاف ہے اور مجھے ایسا ہی معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی گھسٹتا ہوا آرہا ہو۔ پھر بھی میں نے اپنے مزاج کے خلاف اور اپنی صحت کے خلاف یہ کام محض اس لئے کیا ہے تاکہ میں دوستوں کو توجہ دلا دوں کہ اب غفلت اور کو تاہی سے کام لینے کا وقت نہیں رہا۔ جس نے آج غفلت اور کو تاہی سے کام لیا اس کے لئے دوبارہ منزل کو پہنچنا اور ریل کو پکڑنا مشکل ہو گا۔ یاد رکھو ! خدا تعالیٰ کے قرب کی طرف جانے والی ریل اب چلنے ہی والی ہے۔ آخری گھنٹیاں بج رہی ہیں۔ اس کے بعد جو رہ گیا وہ ہمیشہ کے لئے رہ گیا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نیکیوں کے مواقع ہمیشہ ملتے رہتے ہیں مگر نیکیوں کے مدارج میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ صحابہ کو دیکھ لو۔ رسول کریم صلی العلم کی صحبت میں بیٹھنے کی وجہ سے وہ صحابیت کا مقام حاصل کر گئے اور دنیا آج تک ان کی عزت کرنے پر مجبور ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ بعد میں بھی اگر کوئی شخص صحابہؓ کے مقام تک پہنچنا چاہے اور اس کے لئے صحیح جدوجہد کرے تو وہ اس مقام تک پہنچ سکتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ رسول کریم صلی علیم کے بعد کروڑہا کروڑ لوگوں میں سے کتنے ہیں جنہیں صحابیت کا مقام حاصل ہوا۔ ہر زمانہ میں کروڑوں لوگ امت محمدیہ میں ہوئے مگر کسی زمانہ میں دو اور کسی زمانہ میں تین صحابہ کے مقام کو حاصل کر سکے اور باقی لوگوں میں سے کوئی شخص اس مقام تک نہ پہنچ سکا مگر رسول کریم صلی الم کے زمانہ میں عبد اللہ بن ابی بن سلول جیسا منافق انسان بھی صحابی کہلاتا تھا۔ تو ایک زمانہ ایسا ہوتا ہے