خطبات محمود (جلد 23) — Page 539
خطبات محمود 539 * 1942 غلہ ختم ہو جائے تو نتیجہ یہ ہو گا کہ جب تم غلہ کو کو ٹھی سے نکالو گے تو وہ کرم خوردہ ہو گا اور تمہارے کسی کام نہیں آئے گا۔اسی طرح اگر اس قسم کی ٹھگیوں کی عادت پیدا ہو جائے تو جماعت کو کھن کھا جائے گا اور جب دین کے لئے لڑائی کا وقت آئے گا اور ہم اپنے سپاہیوں کے مخزن کو دیکھیں گے تو بجائے اس کے کہ اس میں سے زندہ اور دیندار سپاہی نکلیں مُردہ اور بے دین آدمی نکلیں گے اور وہ اسلام کو فائدہ پہنچانے کی بجائے اس کے ضعف اور تنزل کا باعث بن جائیں گے۔یہ تو ایک ضمنی بات تھی۔اس کے بعد میں پھر دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آج تحریک جدید کا نواں سال شروع ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ چار حصے سفر کے طے ہو چکے ہیں اور اب صرف پانچواں حصہ باقی رہ گیا ہے۔میں ہر سال دوستوں کو یہ تحریک کرتا چلا آیا ہوں کہ انہیں اس میں پہلے سالوں سے زیادہ حصہ لینا چاہئے مگر اس سال میں دوستوں سے یہ کہتا ہوں کہ ان کو اس تحریک میں گزشتہ سالوں سے بہت زیادہ حصہ لینا چاہئے اور چونکہ یہ تحریک اب خاتمہ کے قریب ہے اس لئے انہیں اس سال پہلے سالوں سے نمایاں اضافہ کے ساتھ وعدے کرنے چاہئیں۔خاتمہ سے میری مراد یہ نہیں کہ اس کے بعد کوئی تحریک نہیں کی جائے گی۔در حقیقت کوئی جماعت پے در پے تحریکات کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی اور ہماری جماعت کے سامنے وقتا فوقتا نئی سے نئی تحریکات انشاء اللہ ہوتی چلی جائیں گی مگر بہر حال دس سال گزرنے کے بعد اس تحریک کی موجودہ شکل قائم نہیں رہے گی۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اس کے بعد کیا صورت پیدا ہو۔میں بھی دعا کر رہا ہوں تم بھی دعائیں کرو کہ ان دس سالوں کے بعد اس درخت کو زندہ اور سر سبز و شاداب رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ میری صحیح رہنمائی فرمائے اور اپنی طرف سے ترقی کی تدابیر بتائے مگر بہر حال جیسا کہ میں اعلان کر چکا ہوں۔دس سال کے بعد اس تحریک کی موجودہ شکل ختم ہو جائے گی اور چونکہ اب سفر خاتمہ کے قریب ہے اس لئے اس وقت بہت زیادہ ہمت اور بہت زیادہ کوشش اور بہت زیادہ سعی اور بہت زیادہ قربانی کی ضرورت ہے۔میں جانتا ہوں کہ بعض لوگ ایسے ہیں جنہوں نے شروع سے اس تحریک میں نمایاں قربانی کے ساتھ حصہ لیا ہے مگر ایسے لوگ بھی بہت ہیں