خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 523 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 523

$1942 523 خطبات محمود ضرور بھیجنے پڑیں گے اور انہیں اپنی ساری زندگی اس غرض کے لئے وقف کرنی پڑے گی مگر وہ اپنے ماحول کو نہیں بدل سکتے۔تم یہ تو کر سکتے ہو کہ سنگترے کی شاخ پر مالٹے کا پیوند لگا دو یا کھٹے کی شاخ پر مالٹے کا پیوند لگا دو مگر تم یہ نہیں کر سکتے کہ تم آم کی شاخ پر مالٹے کا پیوند لگا دو یا مالٹے کی شاخ پر آم کا پیوند لگا دو۔اسی طرح تم یہ تو کر سکتے ہو کہ باقی ساری جماعت تھوڑی قربانی کر رہی ہو اور کچھ لوگ ایسے ہو رہے ہوں جو زیادہ قربانی کر رہے ہوں مگر تم یہ نہیں کر سکتے کہ باقی ساری جماعت عیش کر رہی ہو اور چند لوگ انتہا درجہ کی قربانی کر رہے ہوں۔اگر تم ایسا خیال کرو تو یہ ایسی ہی بات ہو گی جیسے کوئی کھٹے پر آم کا پیوند لگا دے یا آم پر مالٹے کا پیوند لگادے۔اگر ہمیں اس بات کی ضرورت ہے کہ دنیا میں کچھ لوگ ایسے پید اہوں جو ہمارے حکم پر آگ میں کو دنے کے لئے تیار ہوں تو ہمیں اپنی تمام جماعت کو تنور کے پاس لا کر بٹھا دینا پڑے گا۔اگر ساری جماعت تنور کے پاس بیٹھی ہوئی ہو اور اس کی گرمی اسے جھلس رہی ہو تو چند لوگ ایسے بھی پیدا ہو سکتے ہیں جو اس تنور میں کود پڑیں اور حکم ملنے پر آگ میں چھلانگ لگا دیں۔مگر تم یہ نہیں کر سکتے کہ باقی ساری جماعت تو باغ میں آرام کر رہی ہو اور کچھ لوگ آگ میں کود جانے کے لئے تیار ہوں۔میں یہ مانتا ہوں کہ تم سب کو یہ نہیں کہا جائے گا کہ وہ تنور میں کود جائیں مگر تم میں سے بعض کو آگ میں کودنے پر تیار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ تم سب کو تنور کے ارد گرد لا کر بٹھا دیا جائے کیونکہ اگر ہم نے بعض سے تنور میں چھلانگ لگوانی ہے۔اگر ہم بعض سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے حکم پر آگ میں کود جائیں گے تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم سب کو تنور کے پاس لا کر بٹھا دیں اور اس بات کی ذرا بھی پروا نہ کریں کہ تنور کی گرمی ان کے جسم کو پہنچتی ہے۔پس جہاں تحریک جدید کی غرض جماعت کے اندر سادہ زندگی کی روح پیدا کرنا اور اسلامی تمدن کا صحیح شعور پیدا کرنا ہے۔وہاں تحریک جدید کی ایک اہم ترین غرض یہ بھی ہے کہ سب لوگوں کو تنور کے پاس لا کر بٹھا دیا جائے تاکہ ضرورت پر اس میں ایسے لوگ پیدا ہوتے چلے جائیں جو حکم کے ملتے ہی اس تنور میں کو دجائیں اور اپنی جان کو سلسلہ اور اسلام کے لئے قربان کر دیں۔اگر سب لوگ تنور کے ارد گرد نہیں بیٹھیں گے تو چند لوگ بھی تنور میں کودنے کے لئے میسر نہیں آسکیں گے۔یہ خدائی قانون ہے جو قوم کی ترقی کی