خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 524 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 524

* 1942 524 خطبات محمود حالت میں بھی جاری رہتا ہے اور اس کے زوال کی حالت میں بھی جاری رہتا ہے۔خوشی میں بھی جاری رہتا ہے اور غمی میں بھی جاری رہتا ہے کہ جب لوگ کسی کو کوئی بڑا کام کرتا دیکھتے ہیں تو انہیں اس سے انس پیدا ہو جاتا ہے اور اس وقت ان کے دلوں میں ایسا جوش پیدا ہوتا ہے کہ ان کی کمزوریاں چھپ جاتی ہیں ، ان کی بے استقلالی جاتی رہتی ہے اور وہ بھی بڑے سے بڑے کام کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔تم اگر گھروں پر جاؤ اور لوگوں کو ان کے مکانوں سے نکال کر کہو کہ فلاں جگہ ایک شخص ڈوب رہا ہے اسے چل کر بچاؤ تو تم کئی تیر نے والوں کو بھی اس کی جان بچانے کے لئے آمادہ نہیں کر سکو گے۔لیکن تالاب یا نہر یا دریا پر جو لوگ کھڑے ہوں اور اپنی آنکھوں سے کسی کو ڈوبتا دیکھ رہے ہوں ان میں سے ایسے لوگ بھی دوسرے کو بچانے کے لئے دریا میں چھلانگ لگا دیتے ہیں جو خود تیر نا نہیں جانتے۔ہم نے اپنی آنکھوں سے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو تیر نا نہیں جانتے تھے مگر جب انہوں نے دیکھا کہ کوئی شخص ڈوبنے لگا ہے تو یکدم ان کی طبیعت میں ایسا جوش پیدا ہوا کہ وہ بھی کود گئے اور انہوں نے اپنی جان کی پرواہ نہ کی کیونکہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے ایک نظارہ دیکھا اور ان کے لئے یہ برداشت کرنا مشکل ہو گیا کہ وہ تو کنارے پر کھڑے رہیں اور کوئی اور شخص ان کے دیکھتے دیکھتے ڈوب جائے۔میں سمجھتا ہوں تم میں سے بھی ہر شخص نے اس قسم کے نظارے دیکھے ہوں گے۔اسی طرح میں نے دیکھا ہے بعض دفعہ ایک جگہ آگ لگی ہوئی ہوتی ہے مگر ایک اور شخص اس آگ میں بے دھڑک کو د جاتا ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ میں کچھ نہ کچھ سامان نکال کر لے آؤں گا حالانکہ اگر کسی دوسرے گاؤں سے لوگوں کو مدد کے لئے بلایا جائے اور یہ کہا جائے کہ فلاں جگہ آگ لگی ہوئی ہے، اسے چل کر بجھاؤ تو کئی لوگ بہانے بنانے لگ جائیں گے۔کوئی کہے گا میرے سر میں درد ہے اور کوئی کہے گا میرے پیٹ میں درد ہے لیکن جو لوگ آگ کے کنارے کھڑے ہوں وہ برداشت نہیں کر سکتے اور ان میں سے کئی آگ میں کود جاتے ہیں۔تو تحریک جدید سے میری غرض جماعت میں صرف سادہ زندگی کی عادت پیدا کرنا نہیں بلکہ میری غرض انہیں قربانیوں کے تنور کے پاس کھڑا کرنا ہے تا کہ جب ان کی آنکھوں کے سامنے بعض لوگ اس آگ میں کود جائیں تو ان کے دلوں میں بھی آگ میں کودنے کے