خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 509 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 509

1942ء 509 خطبات محمود چکی ہیں۔ میں نے انگریزوں کو بار ہا توجہ دلائی ہے کہ اگر وہ چاہیں اور جماعت احمد یہ سے دعا کی درخواست کریں تو اللہ تعالیٰ ہماری دعا سے ان کی مشکلات کو دور کر دے گا مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ابھی تک انگریزوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا حالانکہ چودہری ظفر اللہ خان صاحب کے ذریعہ میرے اس قسم کے رؤیا وغیرہ وائسرائے اور دوسرے انگریز افسروں تک پہنچ چکے ہیں اور اس لحاظ سے ان پر احمدیت کی روحانی طاقت ایک حد تک ظاہر ہو چکی ہے۔ اسی طرح میری یہ بات بھی ان تک پہنچ چکی ہے کہ اگر وہ ہماری طرف دعا کے لئے سچے دل سے متوجہ ہوں تو اللہ تعالی اس فتنہ کو دور کر دے گا اور ان کے لئے امن اور آسائش کے ایام واپس لے آئے گا مگر باوجود اس کے کہ ایک عرصہ سے یہ اعلان ہماری جماعت کی طرف سے ہو چکا ہے گورنمنٹ نے اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔ ہم دعائیں تو اب بھی کرتے ہیں اور میں جماعت کو ہمیشہ کہتا رہتا ہوں کہ انگریزوں کی کامیابی کے لئے دعائیں کیا کرے مگر ان دعاؤں میں اور اس دعا میں بہت بڑا فرق ہے۔ بعض نادان کہا کرتے ہیں کہ اگر تمہاری دعاؤں سے ہی یہ لڑائی دور ہو سکتی ہے تو تمہارے دلوں میں دعا کے لئے کیوں جوش پیدا نہیں ہوتا۔ دنیا میں اتنا خون خرابہ ہو رہا ہے اور تم دعا نہیں کرتے۔ وہ نادان اور احمق یہ نہیں سمجھتے کہ دعا کے لئے جوش پیدا ہونے کے مختلف اسباب میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے اور اس فرق کی وجہ سے وہ جوش کبھی کم پیدا ہوتا ہے اور کبھی زیادہ پیدا ہوتا ہے۔ اس وقت بھی ہم بے شک انگریزوں کی کامیابی کے لئے دعا کرتے ہیں مگر اس لئے کہ ہمارے نزدیک انگریز مظلوم ہیں اور ان کا دشمن ظالم ہے۔ پس ہماری ہمدردی ان کے ساتھ ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ ظالم کو فتح حاصل ہو لیکن اگر انگریز ہم سے دعا کی درخواست کریں تو چونکہ اس درخواست کے نتیجہ میں اسلام اور احمدیت کی سچائی ظاہر ہو گی اس لئے اسلام کی فتح، احمدیت کی فتح اور قرآن کی فتح کے لئے ہمارے دلوں میں دعا کے لئے جس قدر جوش پیدا ہو سکتا ہے وہ جوش موجودہ صورت میں کہاں پیدا ہو سکتا ہے۔ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ جہاں اسلام کی سچائی کا سوال آئے گا، جہاں احمدیت کی صداقت کا سوال آئے گا، جہاں عیسائیت کے مقابلہ میں اسلام کے غالب اور برتر