خطبات محمود (جلد 23) — Page 502
* 1942 502 خطبات محمود اترنے پر مجبور ہو جاتی ہیں یہاں تک کہ تمام سیڑھیاں ختم ہو گئیں اور انگریزی فوجیں ہال میں اتر آئیں اور دشمن کی فوج بھی ان کے پیچھے ہال میں اترنے لگ گئی۔جب وہ نیچے ہال میں پہنچیں تو وہاں بھی انہوں نے دشمن کی فوج سے مقابلہ کیا مگر میں نے دیکھا کہ وہاں بھی چند فٹ وہ پیچھے ہٹ گئیں۔جب میں نے رویا میں انگریزی فوجوں کو اس طرح پیچھے ہٹتے دیکھا تو گھبر اگیا اور میں نے کہا اب کیا ہو گا۔اگر یہی حال رہا تو اس علاقہ پر دشمن قبضہ کرلے گا۔گویا میں ایک وسیع علاقہ کو اس وقت ہال اور سیڑھیوں کی صورت میں دیکھ رہا ہوں اور خواب کے نظارے عموماً ایسے ہی ہوتے ہیں۔پس مجھے گھبراہٹ پیدا ہوئی کہ اگر انگریزوں کی یہی حالت رہی تو دشمن فتح حاصل کر لے گا اور ہندوستان بالکل ننگا ہو جائے گا۔اس حالت میں میں گھبر ا کر گھر کی طرف بھاگتا ہوں۔میں اس وقت اپنے آپ کو مصر میں سمجھتا ہوں مگر اپنا گھر بھی بالکل قریب معلوم ہوتا ہے، ایسا ہی جیسے مدرسہ احمدیہ سے ہمارا گھر قریب ہے۔پس میں تیزی سے گھر کی طرف گیا اور میاں بشیر احمد صاحب کو تلاش کیا۔وہ مجھے ملے تو میں نے ان سے کہا ہم فوج میں تو داخل نہیں ہو سکتے کیونکہ ہماری صحت ایسی نہیں کہ فوج میں با قاعدہ بھرتی ہو سکیں مگر ہم باہر سے انگریزوں کی مدد کر سکتے ہیں۔آپ کے پاس بھی رائفل ہے اور میرے پاس بھی۔چلو ہم اپنی رائفلیں لیں اور اپنے طور پر ہی دشمن پر حملہ کر دیں۔چنانچہ میں ان کو اپنے ساتھ لے کر وہاں گیا۔خواب کے نظارے بھی عجیب ہوتے ہیں اس وقت گولڑائی ہال میں ہو رہی ہے مگر ہم باہر کھڑے ہو کر اندر کا تمام نظارہ دیکھ رہے ہیں اور ہال کی دیواریں اس نظارہ میں روک نہیں بنتیں۔وہاں ایک جھاڑی دیکھ کر میں لیٹ گیا یا دو زانو ہو گیا ہوں اور میں نے کچھ فائر کئے ہیں۔یہ یاد نہیں کہ میاں بشیر احمد صاحب نے بھی کوئی فائر کیا ہے یا نہیں۔بہر حال میں نے دیکھا کہ ان فائدوں کے بعد انگریزی فوج اٹلی والوں کو دبانے لگی اور اس نے پھر انہی سیڑھیوں پر واپس چڑھنا شروع کر دیا جن پر سے وہ اتری تھی۔دشمن کی فوج پیچھے ہٹتے ہوئے نہایت سختی سے مقابلہ کرتی ہے مگر پھر بھی انگریزی فوج اسے دباتے ہوئے سیٹر ھیوں تک لے گئی اور پھر اسے ہٹاتے ہوئے دوسرے سرے تک چڑھ گئی۔جب میں نے یہ نظارہ دیکھا تو اس وقت مجھے آواز آئی کہ ایسا دو تین بار ہو چکا ہے۔گویا دو تین دفعہ دشمن اسی طرح انگریزی فوج