خطبات محمود (جلد 23) — Page 49
خطبات محمود 49 1942ء اس جذبہ کو قومی جذبہ بناؤ پھر سب کمزوریاں خود بخود دور ہو جائیں گی۔ وہ انسان بھی کیا انسان ہے جو صبح اٹھتا اور اپنے دنیوی کام کاج میں لگ جاتا اور جب رات ہوتی ہے سو جاتا ہے اور دن رات میں ایک منٹ کے لئے بھی خدا تعالیٰ کی محبت کی چنگاری اس کے دل میں نہیں سلگتی۔ حالانکہ خدا تعالیٰ کے وجود کا خیال کر کے بھی سر سے پیر تک جسم میں رعشہ طاری ہو جانا چاہئے اور قلب کی تار تار ہل جانی چاہئے۔ آج دنیا میں کسی نے کسی امام کی محبت کو قومی جذبہ بنالیا ہے، کسی نے ختم نبوت کے غلط معنے کر کے اسے قومی جذبہ بنالیا ہے، کسی قوم نے سوراج کو اپنا قومی جذبہ بنالیا ہے مگر میں احمدیوں سے کہتا ہوں کہ تمہارا قومی جذبہ خدا تعالیٰ کی محبت ہونا چاہئے اور تمہارے اندر سے خدا تعالیٰ کی محبت کی ایسی چنگاریاں نکل رہی ہوں کہ تمہارے گرد و پیش رہنے والے بھی اس آگ سے جلنے لگیں۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ آگ جلے اور اس میں سے چنگاریاں نہ نکلیں۔ اس لئے جب تم اس آگ کو روشن کرو گے تو وہ تمہارے گرد و پیش رہنے والوں کو بھی ضرور جلائے گی۔ جب تم خدا تعالیٰ کی محبت کو قومی جذبہ بنالو گے تو تمہارے ارد گرد ایسی دیوار قائم ہو جائے گی کہ جسے توڑ کر شیطان اندر نہ آسکے گا اور کوئی ہلاک کر سکنے والی بلا اندر نہ آسکے گی اور یہ ایسا پاک مقام ہو گا کہ خدا تعالیٰ اس سے جدا رہنا کبھی پسند نہیں کرے گا۔ دنیا کو دیکھو اور دنیا داروں کے جذبات کو دیکھو اور ان جذبات کے لئے جو وہ قربانیاں کر رہے ہیں ان کو دیکھو اور ان سے سبق حاصل کرو۔ ان کے جذبات بالکل ادنی اور معمولی ہیں لیکن تمہارا خدا جو تمہارا معشوق ہونا چاہئے، حسین ترین وجود ہے۔ پس اس سے تمہاری محبت بہت زیادہ ہونی چاہئے اور اس محبت میں بہت زیادہ جوش اور بہت زیادہ گرمی ہونی 66 چاہئے۔ ایسی گرمی اور ایسا جوش کہ اس کی مثال دنیا کی اور محبتوں میں نہ پائی جاتی ہو ۔ “ الفضل 7 فروری 1942ء) 1: سیرت ابن ہشام جلد 3 صفحہ 88 مطبوعہ مصر 1936ء 2 بخاری کتاب المغازی باب غزوة احد 3: اسد الغابة جلد 3 صفحہ 221، مطبوعہ ریاض 1286ھ 4: آل عمران : 145