خطبات محمود (جلد 23) — Page 481
$1942 481 خطبات محمود اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوله - عثمان نے جب ان کی یہ قربانی دیکھی تو اسی وقت واپس لوٹے اور اس رئیس سے جا کر کہنے لگے کہ اپنی پناہ واپس لے لو۔اس نے کہا کیوں؟ کیا تمہارا دماغ پھر گیا ہے ؟ میں نے اگر پناہ واپس لے لی تو تمہیں سخت تکلیف پہنچے گی۔وہ کہنے لگے ہاں یہ مجھے معلوم ہے مگر میں نے آج اپنے بھائیوں کو اس اس طرح مظالم کا شکار ہوتے دیکھا ہے اور میری غیرت اس امر کو برداشت نہیں کر سکتی کہ میں تو تمہاری پناہ میں رہوں اور وہ لوگ تکلیف اٹھائیں۔جو اُن کا حال ہے وہی میں اپنے لئے پسند کرتا ہوں۔چنانچہ اس نے پھر خانہ کعبہ کی مسجد میں جاکر اعلان کر دیا کہ اے لوگو! میں نے عثمان سے اپنی پناہ واپس لے لی ہے۔اب میں اس کا ذمہ دار نہیں ہوں۔کچھ دنوں کے بعد حج کا موسم آیا اور عرب میں یہ قاعدہ تھا کہ حج کے موقع پر مکہ میں بڑے بڑے خطیب اور شعراء اکھٹے ہوتے ، جو لیکچر دیتے اور اشعار سناتے۔عرب کے ایک مشہور شاعر لبیڈ گزرے ہیں جنہوں نے بعد میں اسلام بھی قبول کر لیا تھا۔وہ اس موقع پر ایک بہت بڑی مجلس میں اپنا قصیدہ سنا رہے تھے اور تمام رؤساء واہ وا کہہ رہے تھے۔لبید اس زمانہ میں عرب کے سب سے بڑے شاعر سمجھے جاتے تھے۔شعر سناتے سناتے انہوں نے ایک مصرع یہ پڑھا کہ الا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ یعنی سنو خدا تعالیٰ کے سوا دنیا کی سب چیزیں فانی ہیں۔انہوں نے یہ مصرع پڑھا تو حضرت عثمان کہنے لگے۔واہ وا کیا اچھا مصرع کہا ہے۔تم بالکل ٹھیک کہتے ہو کیونکہ اس مصرع میں توحید کا مضمون پایا جاتا تھا وہ تصدیق کرنے سے رک نہ سکے۔لبید یہ سنتے ہی بگڑ گئے اور انہوں نے کہا اے مکہ کے لوگو! کیا تم میں اب کوئی ادب باقی نہیں رہا۔میں بڑی عمر کا آدمی ہوں اسی نوے سال میری عمر ہو چکی ہے۔سارا عرب میرے اشعار کو اپنے سر اور آنکھوں پر رکھتا ہے اور میرا کلام اپنے اندر ایسے محاسن اور حکمتیں رکھتا ہے کہ سب لوگ اس کی قدر کرتے ہیں۔ایسی صورت میں کیا تم سمجھتے ہو، میرے کلام کو درست قرار دینے کے لئے ایک انیس سالہ لڑکے کا داد دینا کوئی وقعت رکھتا ہے اور کیا وہ اگر میرے شعر کو درست قرار دے گا تو وہ درست ہو گا اور اگر وہ ٹھیک نہیں کہے گا تو وہ ٹھیک نہیں ہو گا۔اس لڑکے کا میرے