خطبات محمود (جلد 23) — Page 482
* 1942 482 خطبات محمود اس مصرع کے متعلق یہ کہنا کہ یہ ٹھیک ہے یہ بھی میری ہتک ہے۔میرے شعر اس چھوٹے سے لڑکے کی تصدیق کے محتاج نہیں ہیں۔چنانچہ سب نے اسے ڈانٹنا شروع کیا کہ لڑکے آرام سے شعر سن، درمیان میں تو کیوں بولتا ہے۔وہ خاموش ہو گئے۔اس کے بعد پھر اس نے اگلا مصرع پڑھا کہ وَكُلُّ نَعِيمٍ لَّا مُحَالَةَ زَائِلُ اور ہر ایک نعمت یقیناً آخر تباہ ہو جائے گی۔اب پھر عثمان بول پڑے اور کہنے لگے یہ بالکل جھوٹ ہے۔جنت ہمیشہ قائم رہے گی۔جو شخص عثمان کے ایک مصرع کو ٹھیک کہنے پر ناراض ہو گیا تھا، تم سمجھ سکتے ہو کہ جب اس کے دوسرے مصرع کو جھوٹ کہہ دیا گیا تو وہ کس قدر نارض ہو ا ہو گا۔اس نے شعر پڑھنے بند کر دیئے اور کہا میں اب کوئی شعر نہیں سناؤں گا۔اب مکہ شریفوں کی جگہ نہیں رہا اور یہاں کسی کی عزت محفوظ نہیں۔اس کا یہ کہنا تھا کہ لوگوں میں جوش پید اہو گیا اور سب عثمان بن مظعون کو مارنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور انہیں اتنا مارا اتنا مارا کہ وہ لہولہان ہو گئے۔اسی دوران میں ایک شخص نے زور سے ان کی ایک آنکھ پر گھونسہ مارا جس سے ان کی آنکھ کا ڈیلا نکل کر باہر آگیا۔اس مجلس میں وہ رئیس بھی موجود تھا جو حضرت عثمان بن مظعون کے والد کا دوست تھا۔ایک طرف اس پر اپنی قوم کا رعب تھا اور دوسری طرف اس کے اپنے ایک پرانے دوست یعنی عثمان کے والد سے جو تعلقات تھے وہ اسے یاد آگئے اور اس نے خیال کیا کہ عثمان کا باپ اس سے کیسا حسن سلوک کیا کرتا تھا مگر آج اس کے بیٹے کی کیا حالت ہو رہی ہے۔اس شش و پنج کی حالت میں جیسے کسی کے نوکر بچے کو جب اس کے آقا کا کوئی لڑکا مارتا ہے تو ماں اپنے آقا کے لڑکے کو تو نہیں مار سکتی الٹا اپنے بچے کو مارتی ہے کہ تو وہاں کیوں گیا تھا اور در حقیقت وہ محبت کی مار ہوتی ہے۔اسی طرح ان کے باپ کا وہ دوست غصہ سے کھڑا ہو گیا اور اس نے کہا عثمان میں نے نہیں کہا تھا کہ تو میری پناہ میں سے نہ نکل۔اب تھا تو وہ غصہ مگر اس کا موجب در حقیقت وہ محبت تھی جو اسے اس کے باپ سے تھی۔مطلب یہ تھا کہ تو میری پناہ سے نکلا تو آج مجھے بھی یہ دیکھ دیکھنا پڑا کہ تیری ایک آنکھ نکل گئی۔حضرت عثمان نے آگے سے جواب دیا کہ چا تم اس ایک آنکھ کا ذکر کرتے ہو میری تو اس راہ