خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 479 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 479

* 1942 479 خطبات محمود قربانیوں کو دیکھتا ہے ان کو ان کا پھل کھلا دیتا ہے۔مکہ میں جو لوگ قربانیاں کرتے رہے تھے کب ان کے وہم اور گمان میں بھی یہ بات آسکتی تھی کہ عنقریب وہ اس کا پھل کھالیں گے۔وہ اسی نوے یا سو آدمیوں کی جماعت جو ہر روز لوگوں کے ظلموں کے نیچے دبی ہوئی تھی جنہیں پتھروں پر گھسیٹا جاتا تھا، جنہیں کوڑے مارے جاتے تھے ، جن میں سے بعض کو قتل بھی کر دیا جاتا تھا اور جنہیں آخر اپنا گھر بار چھوڑ کر حبشہ کی طرف ہجرت کر کے جانا پڑا کب وہ اس بات کا قیاس بھی کر سکتے تھے کہ ہم لوگ اپنی زندگی میں اپنی ان قربانیوں کا پھل کھالیں گے لیکن یہ اسی نوے یا سو آدمیوں کی جماعت جسے تیرہ سال کفار نے ظلموں کا تختہ مشق بنائے رکھا مدینہ میں ابھی دو سال نہیں گزرے تھے کہ اس کے ہاتھوں سے اس کی آنکھوں کے سامنے اس کا دشمن تہ تیغ ہو گیا اور وہ جو روزانہ ان پر ظلم کرتے اور انہیں قسم قسم کے دکھ پہنچایا کرتے تھے ان کا نام و نشان تک مٹ گیا۔بدر کی جنگ میں جو کچھ ہو امکہ کی زندگی میں مسلمانوں کا وہم اور خیال بھی اس طرف نہیں جا سکتا تھا پھر ابو جہل کے متعلق ان میں سے کوئی شخص یہ قیاس بھی نہیں کر سکتا تھا کہ وہ اس طرح لڑائی کے میدان میں مسلمانوں کے ہاتھوں سے مار اجائے گا اور اسے مارنے والے مدینہ کے دو چھوٹے چھوٹے لڑکے ہوں گے۔8 مگر تیرہ سال ظلم سہنے کے بعد ایک چھوٹی سی جماعت میں اتنا جوش پیدا ہو گیا کہ انہوں نے اپنے دشمن کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا اور وہی لوگ جو ذلیل سمجھے جاتے تھے دنیا میں عزت کے ساتھ دیکھے جانے لگے۔اس کی آخر کیا وجہ تھی ؟ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے قربانیاں کیں اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں کسی قسم کی قربانی پیش کرنے سے دریغ نہ کیا۔وہ خدا کے نام کی عزت کے لئے مر گئے اور جب انہوں نے خدا کے نام کی عزت کے لئے مرنا قبول کر لیا تو خدا نے کہا اب میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ تمہیں ذلیل اور رسوا ہونے دوں۔وہ سب کے سب کیا مرد اور کیا عور تیں اور کیا بچے خدا تعالیٰ کے دین کے لئے ہر قسم کی موت خوشی سے برداشت کرنے کے لئے تیار ہو گئے تھے۔انہوں نے کہا ہم خدا کے لئے ہر قسم کی تکلیف برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں، ہم خدا کے لئے ہر قسم کی ذلت برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں، ہم خدا کے لئے ہر قسم کی موت برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں۔تب خدا نے کہا اب میری غیرت بھی برداشت نہیں کر سکتی کہ میں تمہیں