خطبات محمود (جلد 23) — Page 470
* 1942 470 خطبات محمود وہ اپنے مذہب سے کرتے ہیں اور اس کے لئے انہوں نے اپنی ہمسایہ قوم سے لڑائی کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا کیونکہ وہ چاہتے ہیں، چاہے مسلمانوں سے لڑائی ہو جائے جھنڈے کا سلام ضرور قائم کر دیا جائے۔یوروپین قوموں میں یہ رواج پایا جاتا ہے کہ وہ جھنڈے کو دیکھ کر اپنا ننگا کر دیتے ہیں اور بعض لوگ جھنڈے کے آگے جھک جاتے ہیں حالانکہ سوائے خدا کے اور کسی کے آگے اعزازی جھکنا جائز نہیں۔یہ سب باتیں مشرکانہ ہیں اور ایک مسلم ان میں سے کوئی بات بھی اختیار نہیں کر سکتا۔مگر باوجود اس کے ہم اس امر سے انکار نہیں کر سکتے کہ تمثیلی زبان بہت بڑی اہمیت رکھنے والی چیز ہے اور تمثیلی زبان میں جن چیزوں کو عزت کا موجب سمجھا جائے ان کی حفاظت کرنامذہب کے خلاف نہیں بلکہ مذہب کا ہی حصہ ہے۔اب ایک مسجد کی اینٹیں ویسی ہی ہوتی ہیں جیسے کسی اور مکان میں اینٹیں لگی ہوئی ہوتی ہیں۔ایک ہی بھٹے سے وہ اینٹیں آتی ہیں، ایک ہی آگ سے وہ پکی ہوئی ہوتی ہیں، ایک ہی چمپنی نے ان کی دود کشی کی ہوئی ہوتی ہے، ایک ہی مستری نے وہ اینٹیں پتھوائی ہوتی ہیں جو بعض دفعہ ایک چوڑھا اور چمار بھی ہو سکتا ہے۔پھر انہی اینٹوں سے ایک سکھ کا مکان بنتا ہے، ایک ہندو کا مکان بنتا ہے ، ایک عیسائی کا مکان بنتا ہے، ایک مسلمان کا مکان بنتا ہے مگر کسی مکان کو کوئی خاص عظمت حاصل نہیں ہوتی لیکن انہی اینٹوں سے بنی ہوئی مسجد کے لئے مسلمان اپنی جانیں دینے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔اس لئے کہ مسجد تصویری زبان میں خدا تعالیٰ کی عبادت کا نشان ہوتی ہے حالانکہ ایک چوڑھے یا چہار نے وہ اینٹیں پاتھی ہوتی ہیں۔ایک ہی قسم کا کو ئلہ ان پر خرچ ہو ا ہو تا ہے، ایک ہی قسم کے آدمیوں نے جو بعض اوقات شرابی اور بدکار بھی ہو سکتے ہیں ان کو تیار کرنے میں حصہ لیا ہوتا ہے مگر جب وہ اینٹیں مسجد کو جا کر لگتی ہیں تو ان کو خاص عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جانے لگتا ہے۔اس لئے نہیں کہ وہ اینٹیں اپنی ذات میں قابل عزت ہیں بلکہ اس لئے کہ ان اینٹوں سے مسجد بنتی ہے اور ان اینٹوں کے گرانے کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ مسجد گرائی جاتی ہے اور مسجد کے گرانے کے یہ معنے سمجھے جاتے ہیں کہ خد اتعالیٰ کی عبادت کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔اسی طرح کسی بزرگ کے سامنے کوئی شخص اگر اس سے اونچی جگہ پر آکر بیٹھ رہے تو سب لوگ اسے بے ادب اور گستاخ کہنے لگ جائیں گے یا باپ تو نیچے بیٹھا ہو اور بیٹا اوپر بیٹھ رہے