خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 453

* 1942 453 خطبات محمود بددعائیں دیتی کہ مجھے خواہ مخواہ دق کرتے ہیں۔ان بد دعاؤں کی وجہ سے بعض دفعہ ماں باپ اپنے بچوں کو گھروں میں روک لیتے اور دروازوں کو قفل لگا دیتے کہ تم باہر جاکر صبح صبح بد دعائیں لیتے ہو لیکن جب وہ بڑھیا دیکھتی کہ آج اسے کوئی بچہ دق نہیں کر تا تو وہ ہر دروازہ پر جاتی اور کہتی کہ کیا آج تمہارا مکان گر گیا، کیا سب بچے آج مر گئے اور یہ دیکھ کر ماں باپ دروازے کھول دیتے اور بچوں سے کہتے کہ جاؤ جو مرضی ہے کرو۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ انبیاء کی بھی یہی مثال ہوتی ہے، دشمن انہیں دق کرتا اور مخالفت کرتا ہے لیکن اگر وہ کسی وقت مخالفت نہ کرے پھر بھی انہوں نے تو اپنی بات اسے ضرور سنانی ہے اور جب وہ سنائیں گے۔وہ پھر مخالفت کرے گا۔ان کے دشمن صداقت پر صبر سے کام نہیں لے سکتے اور انبیاء تبلیغ سے باز نہیں رہ سکتے اور دونوں کی یہ حالت مل کر لڑائی کو جاری رکھتی ہے، دشمن مخالفت کرتے ہیں۔انبیاء ان کو اس پر ڈراتے بھی ہیں کہ تم پر ہماری مخالفت کی وجہ سے عذاب آئے گا لیکن اگر وہ کسی وقت چپ ہو جائیں تو یہ پھر اپنی تبلیغ شروع کر دیتے ہیں اور اس پر دوسرا فریق پھر گالی گلوچ شروع کر دیتا ہے کیونکہ گالی کے سوا اس کے پاس کچھ ہوتا نہیں۔یہ ضرور تبلیغ کرتے ہیں اور اس کے پاس ان کا ایک ہی جواب ہوتا ہے یعنی گالیاں۔چنانچہ وہ ضرور گالیاں دیتا ہے۔تو یہ اجتماعی تبلیغ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں تھی مگر بعد میں اس میں سستی پیدا ہو گئی۔بے شک جماعت بڑھ بھی رہی ہے، ترقی بھی کر رہی ہے ، رسائل بھی زیادہ ہیں، اخبار بھی اب زیادہ ہیں مگر وہ جو رنگ تھا کہ دشمن کو چھیڑنا اور مجبور کرنا کہ وہ سچائی کی طرف توجہ کرے، اب آگے سے کم ہے۔اب کچھ لوگ جماعت میں ایسے پیدا ہو گئے ہیں جو پیغامیوں کی طرح کہتے ہیں کہ ہمیں ایسی تقریریں کرنی چاہئیں کہ لوگ سنیں اور کہیں کہ واہ وا احمدی خوب تقریریں کرتے ہیں، مخالفوں کو دِق کر کے تبلیغ کی طرف متوجہ کرنا اب نہیں بلکہ اس طرف مائل ہیں کہ لوگ کہیں احمدی اچھا کام کر رہے ہیں لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ ایسے لوگ صداقت کو قبول نہیں کرتے۔صداقت وہی قبول کرتے ہیں جو لڑتے ہیں مقابلہ کرتے ہیں اور یہ لڑائی اور مقابلہ دو طریق سے ہی ہوتا ہے یا تو کوئی فطرتا مخالف ہو اور یا پھر دلائل کا اصرار اور تکرار کر کے اسے توجہ کرنے پر مجبور کر دیا جائے اور چونکہ وہ مانا نہیں چاہتا، اس کی ظاہری شرافت جاتی رہے