خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 45

* 1942 45 خطبات محمود مثالیں بہت سی ہیں۔ایک دفعہ ایک صحابی جنگ میں کفار کے ہاتھوں قید ہو گئے۔کئی مسلمان پکڑے گئے جن میں سے ایک وہ بھی تھے۔دشمن نے انہیں مکہ والوں کے ہاتھ بیچ دیا۔خریدنے والوں کے کسی رشتہ دار کو انہوں نے قتل کیا ہو ا تھا۔اس لئے انتقام لینے کی خاطر انہوں نے انہیں خرید لیا تا قتل کر کے اپنے کلیجہ کو ٹھنڈا کریں۔وہ انہیں طرح طرح کی تکالیف دیتے تھے۔ہاتھوں اور پاؤں میں بیڑیاں ڈال رکھی تھیں۔ایک دن انہیں کہا کہ تم یہ پسند نہ کرو گے کہ تمہاری جگہ یہاں محمد (صلی الیک) ہماری قید میں ہوں اور تم گھر میں اپنے بیوی بچوں میں آرام سے بیٹھے ہو۔یہ کیسا نازک وقت ہوتا ہے جب انسان سمجھتا ہے کہ میں دشمن کے قابو میں ہوں اور وہ جو چاہے مجھے تکلیف پہنچا سکتا ہے۔قیدی کی طاقت ہی کیا ہوتی ہے کہ وہ اپنے پکڑنے والوں کے سامنے جواب دے سکے مگر وہ صحابی کفار کی یہ بات سن کر حقارت کی ہنسی ہنسے اور جواب دیا کہ تمہیں میرے جذبات کا علم ہی نہیں۔تم کہتے ہو کہ مجھے یہ پسند ہے یا نہیں کہ محمد (صلی لینی) یہاں تم لوگوں کی قید میں ہوں اور میں آرام سے گھر میں بیٹھا ہوں۔میں تو یہ بھی پسند نہیں کر سکتا کہ محمد رسول اللہ صلی الی یکم مدینہ میں ہی ہوں اور ان کے پاؤں میں کانٹا بھی چھے اور میں گھر میں بیوی بچوں کے پاس آرام سے بیٹھا ہوں۔7 غرض یہ شدید عشق تھا جو ان لوگوں کو آنحضرت صلی اللی نام سے تھا۔اسی اُحد کی جنگ کا ایک اور واقعہ ہے۔ایک صحابی جنگ میں زخمی ہوئے۔جب کفار میدان سے ہٹ گئے تو آنحضرت صلی لی ایم نے صحابہ سے فرمایا کہ زخمیوں کو دیکھو۔صحابہ تلاش کرنے لگے۔ایک انصاری رئیس زخمی پڑے تھے اور ان کی حالت ایسی تھی کہ چند منٹ میں ہی فوت ہونے والے تھے۔ایک صحابی دیکھتے دیکھتے ان کے پاس پہنچے اور بیٹھ گئے۔حال دریافت کیا اور کہا کہ کوئی پیغام اپنے بیوی بچوں اور رشتہ داروں کو دینا ہو تو دے دو۔انہوں نے کہا کہ ہاں میں اسی انتظار میں تھا کہ کوئی مسلمان ملے تو اس کے ہاتھ پیغام بھیجوں۔ہر شخص جانتا ہے کہ موت کا وقت گھر میں بھی کیسا سخت ہو تا ہے ، مرنے والے کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ چند منٹ بھی اور مل جائیں تو بیوی بچوں اور بہن بھائیوں سے کوئی اور بات کرلوں۔ان کے لئے کوئی وصیت کر جاؤں لیکن وہ صحابی بیوی بچوں کے پاس نہیں تھے ، گھر میں نہیں پڑے تھے، کسی ہسپتال میں نرم بستر پر نہیں لیے تھے بلکہ پتھریلی زمین پر پڑے تھے مگر ایسی