خطبات محمود (جلد 23) — Page 436
1942ء 436 خطبات محمود یہی وہ مفہوم تھا جو حضرت مجدد صاحب سرہندی نے بیان کیا اور یہی وہ مفہوم تھا جسے ہندو بزرگوں نے خدا تعالیٰ کی تصویریں بنا کر اور اس کے کئی سر اور کئی ہاتھ بنا کر پیش کیا اور لوگوں کو تسلی دی کہ خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرتے وقت تم یہ مت خیال کرو کہ ہم چھوٹے ہیں ہم سے خدا کب محبت کرے گا۔ اس کے جتنے عاشق ہوتے ہیں اتنے ہی اس کے ہاتھ بن جاتے ہیں اور جتنے عاشق ہوتے ہیں اتنے ہی اس کے منہ بن جاتے ہیں۔ بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ جتنے عاشق ہوتے ہیں اتنے ہی خدا تعالیٰ کے سینے بھی بن جاتے ہیں جن سے وہ اپنے عشاق کے سینے لگاتا ہے مگر چونکہ تصویر میں اس کا اظہار نہیں کیا جاسکتا تھا اس لئے انہوں نے صرف ہاتھوں اور مونہوں کی کثرت پر ہی اکتفا کیا، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے عاشقوں سے صرف مصافحہ ہی نہیں کرتا، صرف ان کی طرف منہ ہی نہیں کرتا بلکہ وہ ان سے معانقہ بھی کرتا ہے مگر خدا تعالیٰ کا دیکھنا اور خدا تعالیٰ کا مصافحہ کرنا اور خدا تعالیٰ کا اپنے بندوں سے معانقہ کرنا اور رنگ کا ہوتا ہے۔ نادان انسان ہر چیز کو مادی شکل دے دیتا ہے حالانکہ ان چیزوں کو ظاہری دیکھنے ، ظاہری مصافحہ کرنے اور ظاہری معانقہ کرنے سے کوئی نسبت نہیں، یہ محض روحانی کیفیات ہیں جن کا مومنوں کے ساتھ تعلق ہوتا ہے۔ غرض رمضان کے دنوں میں اللہ تعالیٰ مومنوں پر ظاہر ہوتا اور ان کے بہت ہی قریب آجاتا ہے۔ پس ان ایام میں ہر شخص کے لئے موقع ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں بڑھے اور اس کے قرب کو حاصل کرے۔ بے شک دوسرے دنوں میں بھی اس کے قرب کے دروازے کھلے رہتے ہیں مگر ان دنوں میں وہ اور دنوں کی نسبت زیادہ کھل جاتے ہیں اور ہر شخص کے گھر میں رمضان آجاتا ہے۔ جب رمضان کا مہینہ قریب آتا ہے تو جس طرح کسی کا بیٹا دیر سے جد اہو اور وہ ملنے کے لئے آئے تو وہ دوڑ کر اپنے بیٹے سے ملنے جاتا ہے۔ اسی طرح ہر شخص کو رمضان کا اشتیاق ہو تا ہے ، وہ اس سے ملتا ہے اور جانتا ہے کہ رمضان کے پردے کے پیچھے میرا خدا بیٹھا ہوا ہے کیونکہ وہ فرماتا ہے رمضان کا بدلہ میں ہوں۔ پس جب تم رمضان کو ملے تو در حقیقت رمضان کے پردے میں تم مجھے ملے کیونکہ میں ہی رمضان کے پردے کے پیچھے بیٹھا ہوا ہوتا ہوں۔ پھر جب وہ جاتا ہے تو ویسا ہی کرب اور اضطراب اس کے دل میں پیدا ہوتا ہے جیسے محبت کرنے والے کے دل میں