خطبات محمود (جلد 23) — Page 421
1942ء 421 خطبات محمود که شاید واقعی تشریف لے ہی آئے ہوں اور یہ خیال آتے ہی میں بے تحاشا ننگے پاؤں ہی بھاگ اٹھا۔ پندرہ میں گز دوڑتا گیا اور پھر خیال آیا کہ ہماری قسمت ایسی کہاں اس شخص نے ضرور مذاق ہی کیا ہو گا اور پھر مڑ کر اسے بے تحاشا گالیاں دینی شروع کر دیں کہ تم بہت بد معاش ہو۔ ایسے ہو ویسے ہو ہمیشہ مذاق کرتے رہتے ہو، تمہیں دین کے معاملہ میں مذاق کرتے ہوئے شرم نہیں آتی مگر یکدم خیال آیا کہ میں اس سے یہاں ناراض ہو رہا ہوں اور شاید سچ مچ ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لے آئے ہوں اور یہ خیال کر کے پھر دوڑ پڑا مگر تھوڑی دور جا کر پھر خیال آیا کہ اس شخص نے ضرور جھوٹ بولا ہو گا۔ ہماری ایسی قسمت کہاں کہ آپ تشریف لائے ہوں اور پھر اس شخص کو مڑ کر گالیاں دینے لگا چنانچہ دو تین بار ایسا ہی ہوا اور اس شخص نے پھر کہا کہ منشی جی کیا کرتے ہو۔ خواہ مخواہ وقت ضائع کرتے ہو۔ واقعی مرزا صاحب اڈے پر آئے ہوئے ہیں۔ ایک عاشق کا اپنے معشوق کی طرف جانا تھا اور دیکھ لو اس کا کیا رنگ تھا۔ جب تک نماز روزہ اور دوسری عبادات میں یہ رنگ پیدا نہیں ہوتا اس وقت تک ان کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایک شخص چندہ دیتا ہے مگر دل میں کہتا ہے کہ یہ ایک فرض قوم کی طرف سے لگایا گیا ہے اس لئے اسے ادا کرتا ہوں۔ اس کا چندہ ادا کرنے کا رنگ اور ہو گا لیکن ایک دوسرا شخص جو خدا تعالیٰ کی طرف بڑھنے اور اس سے تعلق پیدا کرنے کا جوش اپنے دل میں رکھتا ہے وہ اسے خدا کے قرب کا ایک ذریعہ سمجھ کر ادا کرے گا۔ اس لئے اسے ادا کرتے وقت اس کے دل میں امنگ اور جوش اور اس کی آنکھوں میں روشنی پیدا ہو گی۔ وہ یہ محسوس کرے گا کہ اس کے ذریعہ میں خدا تعالیٰ کے اور قریب ہوں گا۔ اسی طرح جو شخص روزہ اسی کا نام سمجھتا ہے کہ سحری کھالی اور پھر شام کو کھانا کھا لیا اس کی حیثیت صرف ایک مزدور کی سی ہے جس کے سر پر ٹوکری رکھ دی گئی کہ فلاں جگہ پہنچادے اور ظاہر ہے کہ مز دور کا سر پر ٹوکری اٹھانا اور رنگ رکھتا ہے لیکن ایک شخص جس کا اکلوتا لڑ کا سخت بیمار ہے۔ وہ گھر سے باہر اس کے لئے دوائی لانے کی غرض سے نکلتا ہے تو اسے ایک طبیب مل جاتا ہے جو اسے کہتا ہے کہ یہ دوائی لے جا کر اپنے بیٹے کو کھلا دو۔ وہ ایک منٹ میں تندرست ہو جائے گا، فکر کیوں کرتے ہو۔ وہ بھی ایک بوجھ اٹھا کر گھر کو لوٹتا ہے مگر اس کے بوجھ اٹھانے اور مزدور کے بوجھ