خطبات محمود (جلد 23) — Page 422
* 1942 422 خطبات محمود اٹھانے میں فرق ہے۔مزدور تو سمجھتا ہے کہ میں نے یہ بوجھ فلاں جگہ پہنچانا ہے اور اس کے عوض دو آنے لینے ہیں اور بوجھ اس کی کمر کو توڑ رہا ہوتا ہے مگر دوسرا سمجھتا ہے میں بوجھ نہیں بلکہ اپنے لڑکے کی زندگی اٹھائے لئے جا رہا ہوں۔یہی حالت مومن کی ہوتی ہے جب وہ روزہ رکھتا ہے تو یہ نہیں سمجھتا کہ میں بھوکا رہ رہا ہوں بلکہ اس کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوتی ہے۔دل میں جوش اور امنگ پیدا ہوتی ہے اور امیدیں وسیع ہوتی ہیں اور وہ سمجھتا ہے کہ شاید آج کا روزہ ہی اس پردہ کو اٹھا دے جو میرے اور میرے خدا کے درمیان ہے اور جس کے اٹھنے کے بعد میرا خدا مجھے مل جائے۔ہو سکتا ہے کہ وہ شام کو مایوس ہی ہو جائے مگر دوسرے دن پھر وہ اسی شوق سے اٹھتا ہے اور پھر اسی جوش اور شوق کے ساتھ روزہ رکھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ مومن کی مثال کیمیا گر کی ہوتی ہے۔کیمیا گر بھی بار بار سونا بنانے کی کوشش کرتا ہے اور جب نہیں بنتا تو سمجھتا ہے کہ میری غلطی سے نہیں بن سکا۔آنچ کی کسر رہ گئی اور مجھ سے غلطی ہو گئی اور وہ پھر کوشش کرتا ہے اور پھر ناکام رہنے کے باوجو د پھر کرتا ہے۔اسی طرح مومن نماز پڑھتا ہے کہ اس کا خدا اسے مل جائے مگر جب نہیں ملتا تو وہ مایوس ہو کر چھوڑ نہیں دیتا بلکہ پھر پڑھتا ہے۔یہاں ایک احمدی دوست رہا کرتے تھے ، اب فوت ہو چکے ہیں۔متقی، مخلص اور خدمت گزار آدمی تھے اور غریب تھے۔ان کے بھائی ان کی مدد کیا کرتے تھے۔ان کے متعلق بعض دوستوں نے مجھے سنایا کہ وہ کیمیا بناتے ہیں اور جب کوئی ان کی مدد کرتا ہے اور کچھ دیتا ہے تو وہ جھٹ سونا بنانے کے لئے چیزیں خریدنے کو دوڑتے ہیں۔میں نے شاید خود ان سے پوچھا یا کسی دوست کی معرفت دریافت کرایا۔یہ مجھے اچھی طرح یاد نہیں، ان کا جواب یہ تھا کہ سینکڑوں دفعہ کوشش کی اور سینکڑوں ہی دفعہ ناکامی ہوئی ہے مگر ہر بار یہی خیال آتا ہے کہ سو دفعہ ناکامی ہوئی شاید ایک سو ایک ویں بار کامیابی ہونی ہو اور پھر بھی جب ناکامی ہوتی ہے تو خیال آتا ہے کہ شاید ایک سو دوسری بار کامیابی ہوئی ہو۔اس لئے ایک بار پھر کوشش کر لوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ مومن کی بھی یہی حالت ہوتی ہے۔جھوٹا کیمیاتو کبھی بھی سونا نہیں بنا سکتا مگر مومن کامیاب ہو جاتا ہے۔وہ ایک دن اٹھتا ہے تو سونا