خطبات محمود (جلد 23) — Page 420
1942ء 420 خطبات محمود جب تک کہ اس کے ساتھ محبت اور سنجیدگی نہ ہو ، بات معقول بھی ہو اور پھر اس کے ساتھ محبت اور سنجید گی بھی ہو تب اثر ہوتا ہے۔ اخلاص اور محبت کے بغیر کوئی اثر نہیں ہو سکتا۔ اسی لئے رسول کریم صلی السلام نے فرمایا کہ الدِّينُ النَّصْحُ 4 یعنی دین اور اخلاص ایک چیز ہے جب تک اخلاص نہیں۔ دین بھی نہیں اور جب اخلاص مٹے گا، دین بھی مٹ جائے گا۔ پس یہ خیال مت کرو کہ پانچ وقت نماز پڑھنا، روزے رکھنا، زکوۃ دینا اور حج کرنادین ہے بلکہ ان عبادات کو بجالاتے وقت پیچھے دل میں جو اخلاص ہو ، وہ دین ہے۔ ایسا انسان جس کے دل میں اخلاص ہے ۔ اگر دو رکعت بھی نماز پڑھ لے تو اس کے اثرات نظر آئیں گے۔ لیکن بغیر اخلاص کے محض ریا سے اگر آدمی سارا دن مصلیٰ پر بیٹھا ر ہے تو اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلے گا۔ عبادت کا اثر اتنا نہیں ہو تا جتنا اس سوز و گداز کا ہوتا ہے جو اس کے پیچھے ہو۔ تعلق باللہ کی خواہش سے جو اثر ہوتا ہے۔ وہ خالی روزہ سے نہیں ہو سکتا۔ جب تک عشق اور للہیت پیدا نہیں ہوتی اور خدا تعالیٰ کی طرف انسان اس طرح متوجہ نہیں ہوتا جس طرح بچہ ماں کی طرف ہوتا ہے اس وقت تک روزہ سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔ لوگ دنیا میں ایک دوسرے کے پاس آتے جاتے اور ملتے جلتے بھی ہیں مگر جہاں عشق کا قدم ہو وہاں رنگ ہی اور ہوتا ہے۔ منشی اروڑے خان صاحب مرحوم کا واقعہ میں نے پہلے بھی کئی بار سنایا ہے جو انہوں نے خود مجھے سنایا تھا۔ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وعدہ لیا کہ کبھی کپور تھلہ تشریف لائیں۔ اس زمانہ میں کپور تھلہ تک ریل نہ جاتی تھی۔ ایک حد تک ریل میں جا کر پھر آگے ٹانگوں اور یکوں وغیرہ پر جاتے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کچھ عرصہ تک تو وعدے کرتے رہے اور ایک دن یکدم ارادہ کر لیا کہ اس وعدہ کو پورا کر دیں اور کپور تھلہ جانے کے لئے چل پڑے۔ تنگ وقت ہونے کی وجہ سے وہاں کے احباب کو اطلاع بھی نہ دے سکے۔ منشی صاحب مرحوم سنایا کرتے تھے کہ میں وہاں ایک دکان پر بیٹھا باتیں کر رہا تھا کہ ایک شدید مخالف آیا اور کہنے لگا منشی جی تم یہاں بیٹھے باتیں کر رہے ہو، جلدی اڈے پر جاؤ۔ وہاں تمہارے مرزا صاحب آئے ہوئے ہیں۔ وہ شخص شدید مخالف تھا اور ہمیشہ مذاق کرتا رہتا تھا۔ میں نے سمجھا کہ اب بھی یہ مذاق ہی کر رہا ہے لیکن اس واہمہ کے ساتھ ہی یہ خیال بھی آیا